انوارالعلوم (جلد 19) — Page 564
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۶۴ آخر ہم کیا چاہتے ہیں؟ سے قوی تر بناتے جائیں اور لعنت و ملامت کے تیروں سے یہود کے سینوں کو اس طرح چھید دیں کہ ان گیدیوں کو پھر کبھی اسلامی ممالک کی طرف منہ کرنے کا خیال تک نہ پیدا ہو۔ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کمزور ہو اور پاکستان مضبوط لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کا سونا نکال نکال کر ہندوستان پہنچائیں۔ہندوستان کا مال لا کر مہنگے داموں پاکستان میں فروخت کریں۔ہندوستان میں چھوڑی ہوئی مسلمانوں کی جائداد کا کوئی انتظام نہ کیا جائے مگر پاکستان کے ہندوؤں کی جائداد کو انہیں واپس کیا جائے۔ہم کچھ کمشن لے کر اُن کے کارخانے سنبھال لیں اور اکثر حصہ کمائی کا ہندوستان بھجواتے رہیں مگر پاکستان مضبوط ہوتا جائے۔ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے لیڈروں سے ہمارے خفیہ معاہدات بھی ہوں، راز و نیاز کی خط و کتابت بھی ہو، بغیر نام لئے ، قائد اعظم پر چوٹیں بھی ہوں ، لیگ کے نقائص کو بڑھا بڑھا کر دکھائیں ، ہندوستان کے عیوب پر اپنی عورتوں کے بُرقع تک ڈال دیں مگر ہم کو قوم کا منجی اور پاکستان کا ہمدرد سمجھا جائے اور کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیا کہہ رہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی قومیت کا احساس ترقی کرے لیکن صوبہ جاتی لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ بھی جاری رہے۔ملازمتیں سب صوبوں کے لئے کھلی رہیں لیکن ملیں صرف ہمارے ہموطنوں کو اور سب لوگ ہماری حُبّ الوطنی کی داد دیں اور ہماری وسیع انخیالی کو سرا ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ سب فرقے اور قومیں پاکستان کی حمایت میں اپنی جانیں لڑا دیں اور کسی قربانی سے دریغ نہ کریں لیکن ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ شیعہ، مرزائی وغیرہ قسم کی اقلیتوں کو اس ملک میں کوئی رتبہ نہ ملے۔اِن کو گردن زدنی اور کشتنی قرار دیا جائے لیکن یہ ہنستے ہوئے اپنی گردنیں کٹوائیں اور مسکراتے ہوئے جائیں دیں کیونکہ سچی حُب الوطنی کے معنی ہی یہ ہیں کہ کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے ہم کو معذور رکھا جائے مگر اللہ تعالیٰ اپنی خداوندی کی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کرتا رہے کیونکہ اُسے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مان کر ہم نے اس پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ہم اُس کی غفاری اور ستاری کے مظاہرے کیلئے سامان پیدا کرتے رہیں اور وہ اپنی رحمانیت کے جلوے دکھاتا رہے۔غرض ہم بھول جائیں کہ