انوارالعلوم (جلد 19) — Page 542
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۴۲ سیر روحانی (۴) پیدا ہو جائیں گی اور دشمن انہیں نا کام کرنے کی کوشش کریگا۔چنانچہ اس رؤیا کے بعد جب میں کراچی پہنچا تو تیرہ مارچ (۱۹۴۸ء) کو میں نے انہیں تار دیا کہ میں نے ایسا رویا دیکھا ہے اور میں نے لکھا کہ گو خواب میں قتل سے مراد کوئی بڑی کامیابی بھی ہو سکتی ہے لیکن ظاہری تعبیر کے لحاظ سے چونکہ یہ رویا منذر ہے اس لئے انہیں احتیاط رکھنی چاہئے۔اس کے جواب میں مجھے ان کی طرف سے تار بھی ملا اور پھر تفصیلی خط بھی آ گیا جس میں ذکر تھا کہ بعض حکومتیں اپنی ذاتی اغراض کے لئے مخالفت کر رہی ہیں اور کام میں مشکلات پیدا ہوتی جا رہی ہیں۔چوہدری صاحب کی بیوی مجھ سے ملنے کے لئے آئیں تو میں نے ان سے بھی اس رؤیا کا ذکر کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ میں نے بھی چوہدری صاحب کے متعلق ایک منذر رؤیا دیکھا ہے جس میں کسی حملہ کی طرف اشارہ ہے اور آپ کی خواب بھی یہی بتا رہی ہے۔میں نے کہا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعہ میں کوئی دشمن غصہ میں آکر ان پر حملہ کر دے مگر اصل تعبیر یہی معلوم ہوتی ہے کہ جو کام وہ کر رہے ہیں اس میں دشمن انہیں نا کام کرنے کی کوشش کرے گا۔محمدی مینار تا ابد آپ کے نام کو قائم رکھنے والا ہے (۴) پھر مینار بنانے کی چوتھی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ چاہتے ہیں ان میناروں کے ذریعہ ان کا نام دنیا میں قائم رہے اور لوگ انہیں عزت کے ساتھ یاد کریں مگر ہمیں دکھائی یہ دیتا ہے کہ خود بنانے والوں کے ناموں میں ہی اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ایک کہتا ہے یہ قطب الدین ایبک کی لاٹ ہے اور دوسرا کہتا ہے یہ فلاں راجہ کی لاٹ ہے ایک کہتا ہے یہ فلاں بادشاہ کا مینار ہے اور دوسرا کہتا ہے یہ فلاں راجہ کا مینار ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مینار تا ابد آپ کے نام کو قائم کرنے والا ہے اور پھر اس کے بنانے والے کے متعلق کسی کو شبہ نہیں۔ہر شخص دوست اور دشمن مانتا ہے کہ یہ منارہ محمد ی ہے دنیا میں اس کا کبھی کوئی اور مدعی ہو ہی نہیں سکتا اور یہ جامہ کسی اور کے بدن پر زیب ہی نہیں دے سکتا۔محمدی مینار دنیا کے ہر مقام پر کھڑا کیا جاسکتا ہے پھر دنیوی میناروں اور اس مینار میں ایک اور فرق یہ ہے کہ ان میناروں کو خواہ کتنی ضرورت ہو اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جا سکتا۔وتی سے مسلمان چلے گئے مگر فیروز