انوارالعلوم (جلد 19) — Page 499
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۹ سیر روحانی (۴) مجددین کی بعثت کی خبر اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کونسا ستارہ ہے جو اس موقع پر گرا کرتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کیا تشریح کی ہے؟ اس غرض کے لئے جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اُن میں یہ ارشاد نظر آتا ہے کہ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا یعنی میری اُمت کے لئے اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک ایسا شخص مبعوث فرمایا کرے گا جو اُمت کی خرابیوں کو دور کرے گا اور دین کا از سر نو احیاء کرے گا گویا جس چیز کو قرآن کریم نے شہاب مبین قرار دیا ہے، اُس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روحانی انسان قرار دیا ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب کبھی دنیا میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اُس وقت آسمان سے ایک ستارہ گر ا کرتا ہے جو مبین ہوتا ہے، یعنی چاروں طرف اس کے ظہور سے روشنی ہو جاتی ہے اور لوگوں پر دین کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک ایسا آدمی میری اُمت میں مبعوث کیا کرے گا جو يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا دین کی خرابیوں کو دُور کرے گا اور اسلام کی تجدید کرے گا گویا وہی چیز جس کا نام قرآن کریم نے شہاب مبین رکھا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کا نام مجد درکھا۔ہر نبی ایک شہاب ہے مگر محمد رسول اللہ اس تشریح کے ماتحت ہم کہہ سکتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم شہاب مبین ہیں وقت کا نبی اور مجد د ہوتا ہے جو شیطان کہ ”شہاب مبین سے مراد ہمیشہ کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اور دین کو ہر قسم کی رخنہ اندازیوں سے پاک کر دیتا ہے، لیکن اس نقطہ نگاہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا ہر نبی ایک شہاب ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ شہاب مبین بھی ہے کیونکہ وہ لوگ جو دین میں رخنہ اندازی کرتے ہیں ان کی ہلاکت اور بر بادی کا وہ اس وقت موجب نہیں ہیں ، یہ کام صرف وقت کا نبی یا مجد د کر سکتا ہے اور یا پھر وہ نبی کر سکتا ہے جس کی نبوت قیامت تک زندہ ہو اور جس کی شریعت ہر زمانہ میں قابل عمل ہو۔اس لحاظ سے گو ہر مجد داور ہر نبی ایک شہاب ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہاب مبین ہیں،