انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 492

انوار العلوم جلد ۱۹ پورا نہ ہو سکا۔۴۹۲ سیر روحانی (۴) روشنی کا فقدان باقی رہا یہ امر کہ مینار روشنی دیتے ہیں یہ بھی ہمیں ان میناروں سے پورا ہوتا نظر نہیں آتا ، دنیا میں سینکڑوں مینار کھڑے ہیں مگر ان پر روشنی کا کوئی سامان نہیں ، در حقیقت مینار بنانا اور بات ہے اور اس پر روشنی کرنا اور بات۔جن لوگوں نے وہ مینار بنائے تھے جب ان کی اپنی نسلیں باقی نہ رہیں تو روشنی کون کرتا ؟ یوں کہلانے کو سب ہی مینار کہلاتے ہیں، لیکن روشنی کہیں بھی نہیں ہوتی یا کچھ عرصہ کے بعد مٹ جاتی ہے۔قطب صاحب کے مینار کو ہی لے لو آج اس پر کہاں روشنی ہوتی ہے بیشک وہ کچھ عرصہ تک روشنی دیتے رہے مگر پھر تاریک ہو گئے اور اب نہ وہ دن میں کام آتے ہیں اور نہ رات کو کام آتے ہیں، بنانے والوں کی نسلیں تک باقی نہ رہیں تو روشنی کرنے والے کہاں سے آتے ؟ مینار بنانے والے خود زمانہ کی گردش کا شکار ہو گئے تیسری غرض یہ کبھی جاتی ہے کہ میناروں کے ذریعہ غیبی علوم حاصل ہوا کرتے ہیں، لیکن یہ غرض بھی ہمیں کہیں پوری نظر نہیں آتی بلکہ مینار بنانے والوں نے آسمانی گردشوں سے غیب کیا معلوم کرنا تھا وہ خود اپنے آپ کو گردشوں سے نہ بچا سکے اور ختم ہو گئے۔انبیاء ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اس جگہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ آپ لوگ جن کو روحانی مینار کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ بھی تو ختم ہو گئے۔اگر اشو کا ختم ہوا تو آدم بھی ختم ہو گیا۔اگر داراختم ہو ا تو نوح بھی ختم ہو گیا۔پھر ان میں اور اُن میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک جہاں تک ظاہر میں ختم ہونے کا سوال ہے ہمیں دونوں ہی ختم دکھائی دیتے ہیں لیکن جہاں تک سلسلہ مذھبیہ کا سوال ہے وہ ختم نہیں ہوئے اور کبھی ختم نہیں ہو سکتے چنانچہ دیکھ لو اشوکا کا نام لیوا آج دنیا میں کوئی باقی نہیں۔دنیا کے مختلف ملکوں اور گوشوں میں پھر کر دیکھ لو، دارا اور اشوکا کو کوئی اگر گالیاں بھی دے تو دنیا کی کوئی قوم اسے مطعون نہیں کر سکتی۔کوئی مذہبی یا سیاسی اقتدار ان لوگوں کو حاصل نہیں مگر آج بھی آدم اور موسی“ پر ایمان لانے والے یہودی اور عیسائی دنیا میں موجود ہیں۔بے شک جہاں تک