انوارالعلوم (جلد 19) — Page 490
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۹۰ سیر روحانی (۴) اُن دنوں قادیان میں ایک اہل حدیث لیڈ ر آئے ہوئے تھے وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو اتفاقاً ان سے بھی اس بات کا ذکر آ گیا۔کہنے لگے ان لوگوں کو کوئی علم نہیں آتا۔محض ارڈ پوپول ہوتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس شخص کو دیکھوں ، وہ اب کی دفعہ آئے تو اسے میرے پاس ضرور بھجوا دیں۔وہ قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں کا رہنے والا تھا، اتفاق سے دوسرے تیسرے دن پھر آ گیا اور میں نے اسے انہی اہلِ حدیث مولوی صاحب کے پاس بھجوا دیا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد وہ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے یہ تو معجزہ ہے معجزہ۔اُس نے جتنی باتیں بتا ئیں وہ ساری کی ساری صحیح تھیں۔معلوم ہوتا ہے اسے غیب کا علم آتا ہے آپ اسے کہیں کہ کسی طرح یہ علم مجھے بھی سکھا دے۔میں نے ہنس کر کہا تم تو اہل حدیث ہوا اور جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو علم غیب نہیں ، پھر یہ کیسی باتیں کرتے ہو۔پھر میں نے انہیں کہا کہ ایک دفعہ تو اس نے باتیں دریافت کر لیں ، اب اسے کہو کہ وہ مجھ سے پھر وہ دو باتیں دریافت کر کے دیکھے میں نے خود بھی اسے کہا، مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوا۔جس چیز کا مجھ پر اثر تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسے مئے کا کس طرح پتہ لگ گیا ؟ اس کے متعلق اس نے بتایا کہ ہماری قوم کے لوگ ساری جگہ پھرتے رہتے ہیں اور وہ انڈونیشیا اور جاپان تک بھی جاتے ہیں ، انہوں نے انسانی جسموں کو کثرت کے ساتھ دیکھنے کے بعد بعض نتائج قائم کئے ہوئے ہیں جو عمو ماستر ، اسّی فیصدی صحیح نکلتے ہیں۔جیسے انشورنس والوں نے اندازے لگائے ہوئے ہیں کہ اتنے آدمی بیمہ کرائیں تو ان میں سے اتنے مرتے ہیں اور اتنے زندہ رہتے ہیں۔چونکہ ستر فیصدی لوگوں کا مستہ نکل آتا ہے اس لئے تمہیں فیصدی لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جانتے تو سب کچھ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ حساب میں ان سے کوئی غلطی ہوگئی ہے۔میناروں کے ذریعہ اپنے نام کو زندہ رکھنے کی خواہش (۴) مینار بنانے والوں کی ایک غرض یہ بھی ہوا کرتی تھی کہ ان میناروں کے ذریعہ سے بنانے والوں کا نام روشن رہے۔بنانے والے بنا جاتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا تعمیر کردہ مینار ہے۔