انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 484

انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۴ سیر روحانی (۴) کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ورنہ اصل یادگاریں وہی ہیں جو خدا تعالیٰ نے بنائی ہیں اور جو دنیا کی دست برد سے پاک ہیں۔جب میں یہاں تک پہنچا تو بے اختیار میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا، میں نے پالیا۔میں نے پالیا میری لڑکی امتہ القیوم بیگم جو میرے پیچھے ہی کھڑی تھی ، اس نے کہا ابا جان آپ نے کیا پا لیا؟ میں نے کہا میں نے بہت کچھ پالیا ہے لیکن میں اب تمہیں نہیں بتا سکتا، میں جلسہ سالانہ پر تقریر کرونگا تو تم بھی سُن لینا کہ میں نے کیا پایا ہے۔سیر روحانی پر پہلی تقریر چنانچہ میں نے پہلی تقریر ۱۹۳۸ء میں کی جس میں میں نے تین مضامین بیان کئے تھے۔اول وہ آثار قدیمہ جو قرآن کریم نے پیش کئے ہیں۔قرآن کریم ایک وسیع سمندر کو پیش کرتا ہے۔قرآن کریم ایک وسیع جنتر منتر کو پیش کرتا ہے۔دوسری تقریر ۱۹۴۰ء میں میں نے دوسری تقریر کی جس میں میں نے یہ ذکر کیا کہ قرآن کریم بھی ایک قلعہ پیش کرتا ہے جس کے مقابلہ میں دُنیوی قلعے کوئی حقیقت نہیں رکھتے اور قرآن کریم بھی ایک وسیع مسجد پیش کرتا ہے ایسی مسجد جس کے مقابلہ میں مٹی اور اینٹوں کی بنائی ہوئی مسجد میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔تیسری تقریر ۱۹۴۱ء میں میں نے یہ بیان کیا کہ دنیا کے مقابر کے مقابلہ میں اسلام نے کو نسے مقابر پیش کئے ہیں اور دنیوی مین بازاروں کے مقابلہ میں اسلام نے کونسا مینا بازار پیش کیا ہے۔نو (9) مضمون ابھی باقی ہیں جن میں میں نے اپنے خیالات کا ابھی تک اظہار نہیں کیا۔میں چاہتا ہوں کہ ان نو (۹) مضامین میں سے آج صرف ایک مضمون کو بیان کر دوں۔فضائل القرآن پر لیکچر ۱۹۴۱ء کے بعد اس وقت تک مجھے اس مضمون پر بولنے کا موقع نہیں ملا ، کیونکہ درمیان میں بعض اور ضروری مضامین آگئے تھے جن کے متعلق تقریر کرنا ضروری تھا ، اسی طرح ایک اور مضمون بھی نامکمل چلا آ رہا ہے جو فضائل القرآن کا مضمون ہے۔