انوارالعلوم (جلد 19) — Page 357
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۵۷ پاکستان کا مستقبل ڈسٹرکٹ بورڈ مقرر ہیں اسی طرح پر ضلع میں اس کی میونسپل کمیٹیوں کا ایک مشترکہ بورڈ ہونا چاہئے جس کے سپر د اس قسم کے رفاہ عام کے کاموں کی نگرانی ہو اس طرح میونسپل کمیٹیوں کے کاموں میں ہم آہنگی بھی پیدا ہو جائے گی اور باہمی تعاون سے ترقی کے نئے راستے بھی نکلتے جائیں گے۔پچاس ہزار سے اوپر کے جو شہر ہوں ان کے لئے سوختنی لکڑی کے رکھ بنانا صوبہ داری حکومت کا فرض ہو۔ان شہروں کے لئے شہر کے ایسی طرف زمین حاصل کر کے جس طرف شہر کے بڑھاؤ کا رُخ نہ ہو دو تین میل فاصلہ پر سوختنی لکڑی کی رکھیں بنا دینی چاہئیں جہاں سے شہر میں لکڑی سپلائی ہوتی رہے۔پچاس ہزار آدمی کی آبادی یا اس سے زیادہ کے شہروں کے لئے جتنی سوختنی لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے اُس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اقتصادی یونٹ ہوگا اور حکومت کو اس نظام میں کوئی مالی نقصان نہیں ہوگا بلکہ نفع ہی ہوگا۔اس انتظام کے علاوہ مرکزی حکومت کے انتظام کے ماتحت بعض بڑے بڑے رکھ بنانے چاہئیں تا ضرورت کے موقع پر ملک کو سوختنی لکڑی مہیا کی جا سکے اور اگر کسی وقت کوئلہ کی کمی ہو تو کارخانے اس لکڑی کے ذریعہ سے چلائے جاسکیں۔دوسرے ڈسٹر کٹوڈسٹیلیشن Destructive Distillation) کے ذریعہ بہت سارے کیمیائی اجزاء ملک کے استعمال اور بیرونی دساورت کے لئے پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ڈسٹر کٹو ڈسٹیلیشن زیادہ تر سخت لکڑی سے کیا جاتا ہے جیسے کیکر شیشم ، پھلائی وغیرہ اس ذریعہ سے سپرٹ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے جو جنگی ضرورتوں کے بھی کام آئے گا اور کئی کیمیاوی کارخانوں میں بھی استعمال ہوگا۔اس کے علاوہ ایسی ٹون ، ایسٹک ایسڈ اور فارمیلڈی ہائیڈ بھی اس سے بنائے جا سکتے ہیں۔اوّل الذکر بارود کے بنانے میں کام آتا ہے اور آخر الذکر پلاسٹک کے بنانے میں کام آتا ہے۔شیشم اور کیکر کا درخت بہت حد تک تعمیری ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔آجکل تعمیری ضرورتوں کے لئے زیادہ تر دیودار کی قسم کی لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں جیسے دیار، کیل ، پڑتل اور چیل یہ لکڑیاں پہاڑوں پر ہوتی ہیں۔پہلے کشمیر، چنبہ اور منڈی سے یہ مہیا کی جاتی تھیں۔ریلوں کی لائنیں بنانے میں یہی لکڑی کام دیتی تھی کیونکہ ریل پر بچھائی جانے والی شہتیر یاں ہر وقت سنگی رہتی ہیں اور اُن پر بارش کا پانی پڑتا ہے عام لکڑی زیادہ دیر تک گیلی رہنے سے خراب ہو جاتی ہے۔دیار کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ گیلے ہونے سے خراب نہیں ہوتی ان