انوارالعلوم (جلد 19) — Page 327
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۲۷ الفضل کے اداریہ جات ہندوستان میں رہ سکیں گے اور وہ کروڑ، ڈیڑھ کروڑ ہند و جو پاکستان میں رہتا ہے وہ بھی عزت اور آبرو کے ساتھ اس ملک میں رہ سکے گا۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ فائدہ ہوگا کہ ایشیاء کی غلامی کی زنجیریں جو ایک سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے ایشیائیوں کے ہاتھوں اور پاؤں میں پڑ چکی ہیں وہ اس اتحاد کی وجہ سے جلد سے جلد ٹوٹنا شروع ہو جائیں گی اور پھر یہ مزید فائدہ ہوگا کہ ہندوستان جو آئندہ آنے والی جنگ میں یقیناً سخت خطرہ میں پڑنے والا ہے وہ اس جنگ میں کامیاب مقابلہ کر سکے گا ورنہ اس وقت تو یہ حالت ہے کہ فوجی طاقت نسبتی طور پر پاکستان کے ہاتھ میں زیادہ ہے اور پاکستان ہی ان سرحدوں پر واقعہ ہے جس طرف سے خطرہ کا امکان ہوسکتا ہے بلکہ جو خطرہ پیش آنے والا ہے اُس کا مقابلہ کرنے کیلئے جتنی رقم کی ضرورت ہے وہ پاکستان کے پاس نہیں ہے نہ قریب کے عرصہ میں ہوسکتی ہے۔اگر ایسی کوئی جنگ ہوئی تو اُس کے لئے شاید چالیس لاکھ سے بھی زیادہ سپاہی کی ضرورت ہوگی۔چالیس لاکھ سپاہی کے لڑوانے کیلئے کم سے کم چو بیس ارب سالانہ خرچ ہوگا۔یہ چوہیں ارب سالانہ پاکستان اپنی تمام قربانی کے باوجود بھی مہیا نہیں کر سکتا لیکن دوسری طرف ہندوستان بھی چالیس لاکھ اچھا سپاہی مہیا نہیں کر سکتا۔دوسرے سرحد پر پاکستان کا ملک واقعہ ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان سے معاہدہ کئے بغیر سرحدوں کی حفاظت میں حصہ بھی نہیں لے سکتا لیکن پاکستان کی امداد سے ایک ایسی جنگ کے لئے جو قومی جنگ ہوگی وہ چوبیس ارب روپیہ مہیا کر سکتا ہے۔پس ہندوستان یعنی وہ ملک جس کو پھاڑ کر پاکستان اور ہندوستان یونین بنایا گیا ہے، اُس کی حفاظت اور آئندہ ترقی کے لئے نہایت ضروری ہے کہ پاکستان اور ہندوستان یونین کے درمیان باعزت سمجھوتہ ہو۔غیر ملکی لوگوں کی ریشہ دوانیاں ابھی سے ہندوستان اور پاکستان میں شروع ہیں وہ سطح کے نیچے دبی ہوئی ہیں لیکن ان کے سطح کے نیچے دبے ہونے کی وجہ سے اُن کو حقیر نہیں سمجھنا چاہئے۔اندرہی اندر آگ سلگ رہی ہے دونوں ملکوں کو ہوشیار ہو جانا چاہئے اور ایک دوسرے سے بے اعتنائی اور بے رخی برتتے ہوئے اپنے ملک کی تباہی کے سامان نہیں پیدا کرنے چاہئیں۔جہاں تک اندرونی حفاظت کا سوال ہے پاکستان کو پورا حق ہے کہ وہ اپنی تمام سرحدوں کی حفاظت کرے۔ان سرحدوں کی بھی جو ہندوستان یونین کی طرف ہیں اور ان سرحدوں کی بھی جو