انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 235

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۵ الفضل کے اداریہ جات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پاکستانی فوج اور فوجی مخزن کل ۱۵/ تاریخ کو پاکستانی فوج کے ایک سو چودھویں بریگیڈ کا مظاہرہ ہوا اس میں پاکستانی فوج نے وزیر دفاع نواب زادہ لیاقت علی خاں صاحب کو سلامی دی۔پاکستانی فوج کی راہنمائی بریگیڈیر نذیر احمد نے کی جو اس وقت پاکستانی فوج کے سب سے سینئر مسلمان بر یگیڈیر ہیں۔جہاں تک مظاہرہ کی شان اور عظمت کا سوال ہے ہمارے نزدیک اس موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اور لاہور شہر کی بڑائی کو دیکھتے ہوئے یہ مظاہرہ اس سے زیادہ شاندار ہونا چاہئے تھا جتنا کہ ہوا۔اس مظاہرہ میں مختلف بٹالینز (Batalians) کے نمائندوں کی کل تعداد اندازاً آٹھ سو کے قریب تھی اور مظاہرہ کی لمبائی اور وسعت صرف موٹروں ٹینکوں کے استعمال اور ان کی سست رفتاری کے سبب سے تھی۔بعض پاکستانی افسر بشمولیت بریگیڈیر نذیر نہایت چست اور اپنے کام کے قابل اور اہل نظر آتے تھے اور بعض افسروں کے اندر وہ چستی نظر نہ آتی تھی جو ہونی چاہئے تھی۔دو تین افسروں نے تو یہاں تک غفلت کی کہ وزیر دفاع کے پاس سے گزر گئے اور سلامی تک نہ دی۔بعضوں نے سلامی میں اتنی جلد بازی سے کام لیا کہ وزیر دفاع کے پاس پہنچنے سے بہت پہلے ہی سلامی دینی شروع کر دی حالانکہ مناسب طریق یہ تھا کہ وہ وزیر دفاع کے پاس پہنچتے وقت دو تین گز پہلے سے سلامی دینی شروع کرتے۔بعض لطائف بھی اس موقع پر ہو گئے۔کرنل فلج ایک انگریز افسر مجمع کو دیکھتے ہوئے مسکراتے چلے جاتے تھے اور نظارہ کی کیفیت نے اُن پر کچھ ایسا اثر کیا ہوا تھا کہ سلامی کا اُن کو خیال ہی نہیں آیا۔مسکراتے مسکراتے وہ عین وزیر دفاع کے سامنے پہنچ گئے اور یکدم انہیں اپنے فرض کی طرف توجہ ہوئی۔چہرہ سنجیدہ بنالیا اور سلامی کی جگہ سے آگے گزرتے ہوئے سلام کرتے چلے گئے۔بہر حال عام اثر یہی تھا کہ پاکستانی سپاہیوں نے بہت اچھی نمائش کی ہے۔ان کے ستے ہوئے جسم اور بل کھاتے ہوئے