انوارالعلوم (جلد 19) — Page 233
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۳ الفضل کے اداریہ جات کے شہروں کی آبادی بھی ۳۵ ۴۰لاکھ کے قریب ہے۔اگر فوجی کلبوں کا رواج قائم کر دیا جائے تو صرف ۲۰ ۳۰ لاکھ روپیہ سالانہ کے خرچ سے دو لاکھ کے قریب سپاہی اور افسر اور تیار ہو جائے گا جو ٹیریٹوریل فورس کے برابر تو تجربہ کار نہیں ہو گا لیکن ایسا ضرور ہوگا کہ جنگ کے موقع پر دو تین مہینہ کی تربیت کے بعد وہ ٹیریٹوریل فورس کی جگہ کام کرنے کے قابل ہو جائے جبکہ اس عرصہ میں ٹیریٹوریل فورس اعلیٰ تربیت کے بعد حملہ آور فوج کی جگہ لینے کیلئے تیار ہو جائے گی۔اگر یہ ہو جائے تو یقیناً جنگ کی صورت میں ملک کو اتنا وقت مل جائے گا کہ آرمی کلب کے ممبر دفاع سنبھالنے کے قابل ہو جائیں اور دفاع کے لئے تیار کی ہوئی ٹیریٹوریل فورس حملہ آور فوج کی صورت میں تبدیل ہو جائے۔اس عرصہ میں نئی ٹیریٹوریل فورس کی تیاری کا موقع مل جائے گا اور ضرورت کے مطابق نئی فوج تیار ہوتی جائے گی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ملک میں اسلحہ کو بالکل آزاد کر دینا اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ ملکوں میں بھی کبھی با برکت ثابت نہیں ہوا۔لائسنس کی شرطیں ضرور رہنی چاہئیں۔فسادی یا غیر معتبر لوگوں کو لائسنس نہیں ملنے چاہئیں۔نیشنل گارڈز جو ایک سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں ان کی اجازت ہرگز نہیں ہونی چاہئے اگر ایک سیاسی پارٹی کو فوج بھرتی کرنے کی اجازت ہو تو ہر پارٹی کو فوج بھرتی کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔یہ درست نہیں کہ جو پارٹی برسراقتدار آ جائے اسے تو فوج بھرتی کرنے کی اجازت ہو اور دوسری پارٹیوں کو نہ ہو۔اس طرح سیاسی آزادی خطرہ میں پڑ جائے گی اور ڈکٹیٹر شپ اور فاسزم کے اصول جاری ہو جائیں گے۔ہوم گارڈ ز کا اصول بھی غلط ہے کیونکہ ایک تو ان کی ٹریننگ ناقص ہوتی ہے دوسرے ان کا انتظام سویلین لوگوں کے ماتحت ہونے کی وجہ سے ان کا فوج کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہے اور فوج کو اس بات کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں دخل دینے لگ جائے اور یہ نہایت خطرناک بات ہے۔جبری بھرتی بھی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ملک ابھی اس کے لئے تیار نہیں لیکن ٹیریٹوریل فورس اور فوجی کلبوں کا اجراء فوراً شروع ہو جانا چاہئے۔ان دونوں چیزوں پر ایسی صورت میں کہ دو تین لاکھ آدمی کی ٹرینینگ مد نظر ہو۔ایک کروڑ روپیہ سالانہ سے زیادہ خرچ نہیں ہوگا کیونکہ سوائے معلموں اور سوائے رائفل اور کارتوس کے خرچ کے اور ایک حصہ کے وردی کے خرچ کے اور