انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 231

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۳۱ الفضل کے اداریہ جات کی ٹریننگ بہت ادنی ہوتی ہے دوسرے ہوم گارڈ ز چونکہ سول اور صوبہ جاتی گورنمنٹ کے ماتحت ہوتے ہیں ان میں اور فوج میں اکثر رقابت پیدا ہو جاتی ہے اور ان کا وجود فوج کو سیاسی کاموں میں دخل دینے کی طرف مائل کر دیتا ہے۔اس سے پوری طرح بچنا چاہئے۔(۵،۴) چوتھی تجویز ٹیر ٹیوریل فورس کی ہے اور پانچویں عام جبری فوجی تعلیم کی۔یہ دونوں تجویزیں چونکہ آپس میں ملتی ہیں اس لئے ہم ان کا اکٹھا ذکر کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک ابھی وقت نہیں آتا کہ عام جبری فوجی تعلیم دی جائے۔نہ اتنے افسر ہمارے پاس مہیا ہیں اور نہ ابھی اتنا روپیہ ہے۔پس ہمارے نزدیک بہترین تجویز ٹیر ٹیوریل فورس کی ہے۔ٹیریٹوریل فورس دفاع ملکی کے اصول پر تیار کی جاتی ہے یعنی اس فوج کو اور اس کے افسروں کو حملے کا کام تو نہیں سکھایا جاتا لیکن دفاع کے تمام ہنر اُن کو سکھائے جاتے ہیں اس لئے اس میں شامل ہونے والے لوگ بغیر اپنے نجی کا موں کو نقصان پہنچانے کے فوجی ٹریننگ حاصل کر لیتے ہیں اور اس ٹریننگ میں مناسب تعداد میں افسر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔اس فوج کی موجودگی میں باقاعدہ فوج کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں مشینی دستوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ حملہ کرنے کے اصول میں ماہر بنانے پر زور دیا جا سکتا ہے کیونکہ جنگ کی صورت میں دفاع کے مورچے فوراً ٹیریٹوریل فوج سنبھال لیتی ہے اور باقاعدہ فوج آگے بڑھنے کے لئے آزاد ہو جاتی ہے۔ٹیریٹوریل فوج چونکہ بہت حد تک فوجی فنون سے واقف ہوتی ہے اور مختلف قسم کے دستوں میں تعاون بھی قائم ہو چکا ہوتا ہے اس لئے صرف تین تین چار چار مہینہ کی ٹرینینگ سے یہی فوج حملہ آور فوج کی شکل میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔اس فوج کی ٹریننگ سے کسی قسم کی بغاوت وغیرہ کا خطرہ بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ فوجی سپاہی کا ہتھیار اس کے پاس نہیں ہوا کرتا۔پریکٹس کے بعد اس سے ہتھیار لے لیا جاتا ہے اور فوجی مخزن میں رکھ دیا جاتا ہے جس پر گورنمنٹ کی نگرانی ہوتی ہے اور ٹیریٹوریل فورس پر خرچ بھی بہت کم ہوتا ہے۔اگر طوعی طور پر۔ایسی بھرتی شروع کر دی جائے تو پہلے سال پچاس ہزار آدمی کی فوج کا تیار کرنا مناسب ہوگا۔جسے ہر سال بڑھایا جا سکتا ہے اور چار پانچ سال میں دس لاکھ تک فوج تیار کی جاسکتی ہے۔اس فوج کی ٹرینگ کے دو حصے کئے جا سکتے ہیں۔عام سپاہی روزانہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹہ فوجی تربیت