انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 226

انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۲۶ الفضل کے اداریہ جات اس تمام سرحد کی لمبائی کوئی ایک ہزار میل کے قریب ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کی وہ سرحد بھی ہے جو افغانستان کے ساتھ ملتی ہے۔اگر خدا کرے کشمیر پاکستان میں شامل ہو جائے تو پاکستان کی سرحد چھوٹی ہو کر چھ سو میل کے قریب رہ جائے گی لیکن اگر کشمیر نہ ملا تو ہزار میل کی سرحد ہو گی۔اگر لڑ نے والی فوج ۳۴ ہزار ہے تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ صرف ایک یا ڈیڑھ ڈویژن یعنی ۱۲ یا ۱۸ ہزار آدمی اگلی صف میں کام کر سکتا ہے۔دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ ایک میل کی حفاظت کیلئے ہمارے پاس ۱۲ یا ۱۸ سپاہی ہیں۔فرانس کی جرمن سے جو سرحد ملتی تھی وہ کوئی اڑھائی سو میل کے قریب تھی اور جرمن کی جو سر حد روس سے ملتی تھی وہ بھی کوئی تین ساڑے تین سو میل تھی۔ان پانچ چھ سو میل کی سرحدات کے لئے جرمن نے ۸۰ لاکھ فوج تیار کی تھی۔اسی طرح فرانس نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ۷۰ لاکھ فوج تیار کی تھی۔اگر ان فوجوں کا ہمیں فیصدی حصہ ایک وقت میں جنگی محاذ پر لڑتا ہو تو جرمن کی سرحدوں کے ہر میل کی حفاظت کیلئے تین ہزار آدمی کا ایک وقت میں انتظام تھا لیکن پاکستانی حدود میں فی میل کی حفاظت کیلئے صرف ۱۸ آدمی مہیا ہو سکیں گے۔فرق ظاہر ہے اور نتائج کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔کہا جاتا ہے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں یہ بات بھی ٹھیک ہے، لیکن جب مشکلیں پڑتی ہیں، جب قوموں کی زندگی اور موت کا سوال پیدا ہوتا ہے تو حکومتوں اور ملک کے باشندوں کا فرض ہوتا ہے کہ روپیہ کی عدم موجودگی کی صورت میں وہ قومی کاموں کو قومی قربانیوں سے پورا کریں۔پاکستان کے لئے اِس سے زیادہ نازک وقت اور کونسا ہوگا اگر پاکستان کے باشندے اب بھی بیدار نہ ہوئے تو کب بیدار ہونگے۔یہ جو ۲ لاکھ آدمی بے کار مشرقی پنجاب میں مارا گیا ہے اور وہ اربوں کی جائدادیں جو مشرقی پنجاب میں تباہ ہوئی ہیں اگر وہی آدمی اور وہی جائدادیں اور وہی روپیہ ملکی دفاع میں صرف کیا جاتا تو پاکستان یقیناً ایک لمبے عرصہ کیلئے اپنے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کر لیتا۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ کیا صورت ہے جس سے یہ ضرورت پوری کی جا سکے۔ہم اس بارہ میں اپنے خیالات اگلے مقالہ میں اِنشَاءَ اللہ ظاہر کریں گے۔الفضل لاہور ۱۵ / اکتوبر ۱۹۴۷ء ) ہم اپنے پہلے مقالہ میں لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کی سرحد کشمیر اور افغانستان کی سرحدوں کو ملا