انوارالعلوم (جلد 19) — Page 199
انوار العلوم جلد ۱۹ ١٩٩ الفضل کے اداریہ جات اس جرم میں ہلاک کر دیا جائے کہ وہ کیوں مشرقی پنجاب میں سے نکلتے نہیں۔منہ سے کہا جاتا ہے کہ ہم کسی کو نکالتے نہیں لیکن عمل سے اس کی تردید کی جاتی ہے۔یہ بات اخلاقی لحاظ سے نہایت ہی گندی اور نہایت نا پسندیدہ ہے۔جماعت احمدیہ نے مسٹر گاندھی کے پاس بھی بار بار اپیل کی ہے، تاریں بھی دی ہیں اور بعض خطوط بھی لکھے ہیں لیکن مسٹر گاندھی کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں۔مسٹر نہرو کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر وہ بھی بڑے کاموں میں مشغول ہیں۔چند ہزار بے گناہ انسانوں کا مارا جانا ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی طرف یہ بڑے لوگ توجہ کر سکیں۔ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت کے مقدس مقامات کی ہتک ان بڑے آدمیوں کے لئے کوئی قابل اعتنا بات نہیں اگر اس کا سواں حصہ بھی انگریز قادیان میں بس رہے ہوتے اور ان کی جان کا خطرہ ہوتا تو لارڈ مونٹ بیٹن کو حقوقِ انسانیت کا جذ بہ فوراً بے تاب کر دیتا۔مسٹر گاندھی بیسیوں تقریریں انگریزوں کے خلاف کا رروائی کرنے والوں کے متعلق پبلک کے سامنے کر دیتے۔مسٹر نہرو کی آفیشل مشین فوراً متحرک ہو جاتی مگر کمزور جماعتوں کا خیال رکھنا خدا تعالیٰ کے سپرد ہے۔وہی غریبوں کا والی وارث ہوتا ہے یا وہ انہیں ایسی تکالیف سے بچاتا ہے اور یا پھر وہ ایسے مظلوموں کا انتقام لیتا ہے ہم تمام شریف دنیا کے سامنے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم کے دور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ پاکستان گورنمنٹ اس ظلم کو دور کرنے میں کیوں بے بس ہے۔بجائے اس کے کہ ان باتوں کو سُن کر پاکستان گورنمنٹ کے متعلقہ حکام کوئی مؤثر قدم اُٹھاتے انہوں نے بھی یہ حکم دے دیا ہے کہ چونکہ قادیان کی سڑک کو مشرقی پنجاب نے نا قابلِ سفر قرار دیا ہے اس لئے آئندہ ہماری طرف سے بھی کوئی کا نوائے وہاں نہیں جائے گی۔حالانکہ انہیں چاہئے یہ تھا کہ جب مغربی پنجاب کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ہے تو وہ ان علاقوں کو بھی نا قابل سفر قرار دے دیتے اور مشرقی پنجاب جانے والے قافلوں کو روک لیتے۔قادیان کے مصائب کو کم کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ قادیان کو ریفیوجی کیمپ قرار دے دیا جاتا لیکن دونوں گورنمنٹیں یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ریفیوجی کیمپ وہی گورنمنٹ مقرر کرے گی جس کی حکومت میں وہ علاقہ ہو۔اس میں کوئی حبہ نہیں کہ جو معاہدہ ہو اس کی پابندی کی جائے لیکن سوال تو یہ ہے کہ اگر بار بار توجہ دلانے کے