انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 125

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۵ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات کئی دن وہاں عبادت الہی میں مصروف رہتے۔جب آپ کا زاد ختم ہو جا تا تو آپ واپس مکہ میں تشریف لاتے اور پھر کچھ سٹو اور کھجوریں یا سوکھا گوشت وغیرہ ساتھ لے کر عبادت الہی کے لئے غار حرا میں چلے جاتے۔آپ کو اس ریاضت شاقہ سے صرف ایک ہی غرض تھی اور وہ یہ کہ آپ کو وہ حقیقی راستہ مل جائے جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت آپ کی ایک جاں نثار بیوی موجود تھی مگر وہ اس معاملہ میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ، آپ کے گہرے اور وفادار دوست موجود تھے مگر وہ بھی اس معاملہ میں آپ کی کوئی مدد کرنے سے قاصر تھے ، آپ کے زمانہ میں بعض مذاہب بھی موجود تھے مگر ان کے پیرو بھی روحانی سر چشمہ سے دور ہو جانے کی وجہ سے قسم قسم کے مشرکانہ خیالات میں ملوث ہو چکے تھے۔کفار مکہ نے تو خانہ کعبہ میں بھی ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے اور یہودی حضرت عزیر کو ابن اللہ قرار دے کر مشرک بن رہے تھے اور عیسائی باپ بیٹا اور روح القدس کی خدائی کے دعویدار تھے غرض جب آپ نے دیکھا کہ اہل مذاہب بھی بگڑ چکے ہیں اور دوست وغیرہ بھی اس بارے میں میری کوئی مدد نہیں کر سکتے تو آپ کو اپنے غیر روحانی ماحول سے اتنا انقباض پیدا ہوا کہ آپ نے سمجھا میں ان سے گلی طور پر علیحدہ نہیں ہوسکتا لیکن میرے لئے ضروری ہے کہ میں اس دنیا سے ایک عارضی انقطاع اختیار کروں اور خدائے واحد سے میں وہ راستہ طلب کروں جو انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچا دینے والا ہو۔آپ ایسی حالت میں عبادت الہی اور دعاؤں میں مصروف تھے کہ ایک دن خدا کا فرشتہ آپ پر نازل ہوا اور اُس نے کہا اقرا یعنی اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ۔آپ نے فرمایا مَا اَنَا بِقَارِئ میں تو پڑھ نہیں سکتا۔اس پر فرشتہ نے زور سے آپ کو اپنے سینہ سے لگا کر بھینچا اور پھر کہا۔قرآ۔آپ نے پھر وہی جواب دیا جو پہلی مرتبہ دیا تھا۔تب فرشتہ نے پھر اپنے پورے زور کے ساتھ اپنے سینہ سے لگا کر بھینچا اور کہا اقرا باسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خلق الانسان مِنْ عَلَقٍ - اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ علم الانسان ما لم يَعْلَمْ یعنی اے محمد ! ( ﷺ ) تو رب کا نام لے کر پڑھ جس نے تمام اشیاء کو پیدا کیا ہے جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا ہے ہاں ہم تجھے پھر کہتے ہیں کہ تو اس کلام کو جو تجھ پر نازل کیا جا رہا ہے لوگوں کو پڑھ کر سنا کیونکہ تیرا رب