انوارالعلوم (جلد 19) — Page 90
انوار العلوم جلد ۱۹ ۹۰ قومی ترقی کے دوا ہم اصول بات ہے تو تو راشنان سوموراشنان “ یہ کہہ کر وہ اس کے ساتھ ہی واپس لوٹ آیا۔اب دیکھو ایک دریا پر گیا بھی تھا اور کنکر پھینک کر واپس آ گیا مگر دوسرے نے وہیں کہہ دیا که تو راشنان سومور اشنان۔پس یہ انسانی فطرت ہوتی ہے کہ بعض لوگ سچائی کو اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔جو لوگ سچ کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اور اپنی تمام تر توجہ بیچ پر مرکوز کر دیتے ہیں وہ ایسے نتائج پیدا کرتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص ان کا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔در حقیت اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں دو طاقتیں کام کر رہی ہیں ایک ولیز پاور (will power) یعنی افکار اور ایک تھنگنگ پاور ( Thinking power) یعنی خیالات۔اور یہ دونوں چیزیں آپس میں بالکل مختلف اور متباین ہیں۔ایک فلسفی پہلے ایک چیز کو مانتا ہے مگر بعد میں اس کا انکار کر دیتا ہے اور اس کے خلاف چلتا ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اس کو خیالات کی وجہ سے مانتا ہے افکار کی بناء پر نہیں مانتا گویا سچ اس کے اندر جذب نہیں ہوتا۔ہم ولایت جا رہے تھے حافظ روشن علی صاحب مرحوم بھی ساتھ تھے جہاز میں ایک ہندو بھی ولایت جارہا تھا ہم لوگ جب کھانے پر بیٹھتے تو ہم دیکھتے کہ وہ ہندؤ کباب اور گوشت خوب کھاتا مگر ادھر آ کر وہ ہم سے بحث کیا کرتا کہ گوشت خوری جیو تیال ہے تمہارا اسلام گوشت کھانے کی اجازت دیتا ہے اور یہ سراسر ظلم ہے۔پھر جب وہ کھانے کے لئے پہنچا تو خوب کباب کھا تا۔ایک دن ہم میں سے بعض دوستوں نے کہا کہ یہ ہند و عجیب آدمی ہے کہ ایک طرف تو وہ بڑے مزے لے لے کر گوشت کھاتا ہے اور دوسری طرف بحث کرتا ہے کہ اسلام نے جو گوشت خوری کی اجازت دی ہے یہ جیو ہتیا ہے۔حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے کہا اچھا میں اس کا بندو بست کرتا ہوں اب یا تو وہ گوشت نہیں کھائے گا اور اگر گوشت کھائے گا تو بحث نہیں کرے گا۔چنانچہ انہوں نے ایک اٹالین بہرہ کو بلایا اور اُسے اشارہ سے کہا کہ وہ دیکھو جو فلاں آدمی بیٹھا ہے وہ گوشت خوری کے سخت خلاف ہے اس لئے اُس کے سامنے کبھی گوشت نہ رکھنا ورنہ کسی وقت وہ تمہیں سخت مارے گا۔بہرے نے کہا بہت اچھا۔چنانچہ جب کھانے کا وقت آیا تو بہرے نے اُس ہندو کے سامنے گوشت یا کباب وغیرہ کی کوئی پلیٹ نہ رکھی بلکہ دو تین قسم کی ترکاریاں رکھ دیں۔اُس نے زہر مار کر کے روٹی کھالی مگر دل ہی دل میں پیچ و تاب