انوارالعلوم (جلد 19) — Page 38
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۸ خوف اور امید کا درمیانی راسته مچاتے ہیں۔وہ اپنے دعوؤں کی کامیابی کی ایک جھوٹی امید لگائے بیٹھے ہیں اور جب انہیں سمجھایا جاتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو سخت خطرہ درپیش ہے تو کہیں گے نہ نہ نہ اس بات کا نام نہ لینا ور نہ مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور ان کی دلیری جاتی رہے گی۔میں نے ایک مسلمان لیڈر کو کہا کہ آپ مسلمانوں کو سمجھائیں کہ کسی قسم کی زیادتی نہ کریں بلکہ وہ جہاں تک ہو سکے مظلوم بننے کی کوشش کریں تا کہ دنیا کی آواز ان کے حق میں اُٹھے لیکن انہوں نے کہا نہ نہ یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر مسلمان زیادہ مارے گئے تو باقی لوگ ہمت ہار جائیں گے۔غرض میری اس نصیحت کے جواب میں کہ کچھ دن مرد اور صبر کرو تا کہ ساری دنیا تمہاری تائید کرے انہوں نے مجبوری ظاہر کی کہ اس طرح کرنے سے مسلمانوں کے دل بیٹھ جائیں گے۔یہ سب باتیں ظاہر کر رہی ہیں کہ مسلمانوں نے ابھی تک حقیقی تیاری نہیں کی اگر انہوں نے کوئی تیاری کی ہوتی تو ان کے اندر قربانی کے جذبات ہوتے اور اعلیٰ درجہ کی تنظیم ہوتی۔مثلاً امرتسر میں جب ہندوؤں اور سکھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تھا تو ان بے چاروں کو سوائے اس کے اور کوئی صورت نظر نہ آئی کہ وہ حملے کا جواب دیتے اور یہ ان کا حق بھی تھا مگر سوال تو یہ ہے کہ باقی پنجاب کے مسلمانوں نے کیا تیاری کی۔ان کے لئے یہ بات ہرگز جائز نہ تھی کہ وہ امرتسر کا بدلہ راولپنڈی یا ملتان کے ہندوؤں سے لیتے ظلم کرنے والے تو امرتسر میں بیٹھے تھے راولپنڈی یا ملتان کے ہندوؤں کا اس میں کیا حصہ تھا ان کا یہ فعل سراسر ظلم ہے اور شریعت اسلام نے کسی صورت میں بھی اس کو جائز قرار نہیں دیا۔تیاری کا مطلب تو یہ تھا کہ وہ امرتسر کے مصیبت زدگان کی امداد کرتے ان کا ایک کروڑ کے قریب نقصان ہوا تھا مسلمانوں کو چاہئے تھا کہ لوگوں میں چندہ کی تحریک کرتے اور ایک کروڑ نہ سہی کم از کم چھپیس لاکھ روپیہ جمع کر کے ان کو وقتی گزارہ کے لئے دے دیا جاتا۔اگر ایسا کیا جاتا تو ان کے حوصلے بلند ہو جاتے اور ان کو دلیری ہوتی کہ ہمارے بھی بھائی ہیں اور ہمارے بھی خیر خواہ موجود ہیں جو ہم پر مصیبت آنے کے وقت ہماری امداد کر سکتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ اس کام کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی نہ ہی ان کے لئے چندہ جمع کرنے کے لئے کوئی جدو جہد کی گئی ہے۔بروقت امداد ایک ایسی چیز ہے جو ایک طرف حوصلے کو بلند کرتی ہے اور دوسری طرف محبت کے جذبات کو اُبھارتی ہے۔