انوارالعلوم (جلد 19) — Page 585
۵۸۵ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب انوار العلوم جلد ۱۹ نے ایسے قانون نہیں بنائے جن کی وجہ سے ہر شخص کو نماز پڑھنے پر مجبور کیا جاسکے مگر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان نے کوئی ایسا قانون نہیں بنایا تو کیا پاکستان کا کوئی قانون شراب پینے پر مجبور کرتا ہے یا نا چنے گانے پر مجبور کرتا ہے یا کوئی قانون یہ کہتا ہے کہ تم نماز نہ پڑھو۔اگر تم مسجد میں گئے تو تمہیں چھ ماہ قید کی سزا دی جائے گی جب پاکستان میں اس قسم کا بھی کوئی قانون نہیں تو اگر ہم واقعہ میں بچے مسلمان ہیں تو ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بنائے ہوئے قانونوں پر کیوں عمل نہیں کرتے اور کیوں اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ پاکستان ان امور کے متعلق کوئی قانون نافذ کرے۔کیا پاکستان کا قانون محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون سے زیادہ مؤثر ہوگا یا پاکستان کا قانون محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون سے زیادہ اہمیت رکھنے والا ہوگا ایک روحانی قانون ہمارے پاس موجود ہے اور اس قانون پر عمل ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون پر عمل کرتے ہوئے آج سارے مسلمان نمازیں پڑھنے لگ جائیں گے ، ساری ویران مساجد آباد ہو جائیں تو کونسی گورنمنٹ انہیں اس سے روک سکتی ہے۔یقیناً اگر وہ ایسا کریں تو اسلامی آئین خود بخود نافذ ہو جائے گا اور اس کے لئے کسی اور قانون کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔میں مانتا ہوں کہ بعض چیزیں ایسی بھی ہیں جو حکومت کے اختیار میں ہیں، ہمارے اختیار میں نہیں اور ان کے متعلق پاکستان کی آئین ساز اسمبلی ہی کوئی قدم اُٹھا سکتی ہے عوام کوئی اقدام نہیں کر سکتے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی طرف سے کوئی قدم کیوں نہیں اُٹھایا جاتا۔اس بارہ میں جہاں تک میں نے غور کیا ہے میری رائے یہی ہے کہ وزراء اور ذمہ وار لیڈر یہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کا مطالبہ کرنے والے خود سنجیدہ نہیں۔اگر سنجیدہ ہوتے تو اپنے گھروں میں اسلامی آئین کے ان حصوں پر کیوں عمل نہ کرتے جو افراد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔جب وہ خود عمل نہیں کرتے تو معلوم ہوا کہ ان کا یہ مطالبہ کہ حکومت ملک میں اسلامی آئین کو کیوں جاری نہیں کرتی اپنے اندر کوئی حقیقی طاقت نہیں رکھتا۔اگر وزراء اور لیڈر یہ سمجھ لیں کہ پاکستان کا ہر مسلمان سچا مسلمان ہے اور وہ اسلام کے خلاف کسی کی کوئی بات ماننے کیلئے تیار نہیں ہوسکتا خواہ وہ اس کا افسر ہو یا ماتحت ، باپ ہو یا بیٹا تو پاکستان کا آئین فوراً اسلامی سانچے میں ڈھل جائے اور سورج غروب