انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 534

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۳۴ سیر روحانی (۴) ہے، ہمیں پتہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح حفاظت کی جاتی ہے۔ہم کو پتہ لگ چکا ہے اور انصار اور صحابہ کرام نے اپنے عمل اور اپنی قربانی اور اپنے ایثار سے اس کی ایک ایک شق کھول دی ہے، ایک ایک شرط واضح کر دی ہے پس ہم خدا تعالیٰ کے سامنے یہ جواب نہیں دے سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس اقرار کی کیا قیمت ہے۔اس جواب سے سوائے مجرم بننے کے ہم کچھ اور فائدہ حاصل نہیں کر سکتے ہمیں یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کے لئے اپنی جانیں دینی ہونگی اور یا ہمیں ذلت اور رسوائی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑا ہونا پڑے گا۔بہر حال یہ مینار ہر وقت ہمارے فرض کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے جس طرح مدینہ کے لوگ خود بلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئے تھے ہم نے بھی یہ مینا ر اپنی مرضی سے بنایا ہے اور اس امر کا اقرار کیا ہے کہ آئندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دین کی حفاظت کا ہم ذمہ لیتے ہیں۔مینار کی چوٹی بھی اپنا وعدہ یاد دلاتی رہتی ہے اور اس کی روشنی بھی ہمیں بیدار رہنے کی تعلیم دیتی ہے پس جو کچھ انصار نے کیا ہمیں ان سے بڑھ کر نمونہ دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔(۲) پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محمد رسول اللہ معہ سراج منیر ہیں جو مینارہ بیضاء کہا گیا ہے اس کی مناسبت سے ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں آپ کو سِرَاجًا مُنِيرًا ^ بھی کہا گیا ہے ان الفاظ ۱ ۳۸ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دوسرے لوگ مینار بناتے ہیں تو اول مینار خود تاریک ہوتا ہے۔دوم انہیں محنت کر کے اس پر روشنی کرنی پڑتی ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سراج کی طرح تھے یعنی ان کی روشنی ذاتی تھی اور پھر وہ روشنی مستقل اور دائی تھی۔چاند کی روشنی سورج سے حاصل کردہ ہوتی ہے لیکن سورج میں ذاتی روشنی ہوتی ہے پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ مینار نہیں جس پر کوئی اور روشنی رکھے تو وہ روشن ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات میں ایک چمکنے والے مینار ہیں لوگوں کو دُنیوی میناروں کے لئے بہت کچھ محنت اور تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ان کے لئے بجلی کے قمقموں یا تیل بتی اور دیا سلائی وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔پھر دوسرے مینار دن کے وقت کام نہیں آتے صرف رات کے وقت ان کی روشنی سے استفادہ کیا جاتا