انوارالعلوم (جلد 19) — Page 488
انوار العلوم جلد ۱۹ ۴۸۸ سیر روحانی (۴) عموماً مینار بنائے جاتے ہیں اور ان میں روشنی کا باقاعدہ انتظام رکھا جاتا ہے اس روشنی کو دیکھ کر ڈور سے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ فلاں جگہ ہے یا فلاں جہت پر سفر کرنا زیادہ مفید ہے۔چونکہ پُرانے زمانے میں رات کو قافلے چلا کرتے تھے اس لئے میناروں کی روشنی سے انہیں بہت کچھ سہولت حاصل ہو جاتی تھی۔مینار کے معنوں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے چنانچہ عربی زبان میں مینار کے معنے مقامِ نور کے ہیں کے یعنی جہاں نور کا سامان موجود ہو۔پس مینار اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ ان پر روشنی کی جاسکے اور اسی وجہ سے ان کا نام مینار ہؤا۔ستاروں کی گردشیں معلوم کرنے کی خواہش (۳) تیسرے مینار اس لئے بنائے جاتے تھے کہ اُن کے ذریعہ سے آسمانی گردشوں کا پوری طرح علم ہو اور غیب کی خبریں معلوم کی جاسکیں۔واقعہ یہ ہے کہ زمین پر ہیئت کے سامان اتنی صفائی کے ساتھ ان گردشوں کو نہیں دیکھ سکتے جتنی صفائی کے ساتھ اونچی جگہ سے دیکھ سکتے ہیں اسی لئے دُور بہنیں ہمیشہ اونچی جگہ پر لگائی جاتی ہیں۔پس مینار بنانے کی تیسری وجہ یہ ہوا کرتی تھی کہ لوگ ان پر آلات ہیئت رکھ کر ستاروں کی گردشوں کا علم حاصل کرتے تھے تا کہ انہیں غیب کی خبرمیں معلوم ہوسکیں اور آئندہ کے اسرار اُن پر گھلیں۔ابھی پچھلے دنوں لاہور میں ایک رات ہزاروں ہزار لوگ کمروں سے نکل کر باہر میدانوں اور صحنوں میں سوئے کیونکہ کسی منجم نے یہ خبر اُڑا دی کہ اس رات ایک شدید زلزلہ آئے گا۔لوگ ڈر گئے اور وہ اپنے مکان چھوڑ کر باہر میدانوں اور باغوں میں نکل گئے حالانکہ یہ سب باتیں اسلامی تعلیم کے خلاف ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ مُطِرُنَا بِنَوْءٍ كَذَا وَ كَذَا فَهُوَ كَافِرٌ بِي وَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ جو شخص یہ کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی ہے یا فلاں ستارہ کا یہ اثر ہے ، وہ اسلام سے خارج ہے۔دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے ، سب کچھ اللہ تعالیٰ کے منشاء اور اس کے قانون کے ما تحت ہوتا ہے۔یہ خیال کہ ستاروں کی گردش سے انسان آئندہ کے حالات معلوم کر سکتا ہے، قطعی طور پر غلط ہے اور لاہور والوں نے اس کا اندازہ بھی لگالیا، مگر مشکل یہ ہے کہ وہ لوگ جو دین سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اس قسم کی غلط فہمیوں میں عموماً مبتلاء رہتے ہیں اور منجم بھی بڑی