انوارالعلوم (جلد 19) — Page 358
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۵۸ پاکستان کا مستقبل لکڑیوں کو بعض ادویہ سے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ ان کو کیڑا نہ لگ سکے اور پھر ریل کی پسٹڑی میں استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح اچھی عمارتوں کی تعمیر میں بھی یہ کام آتی ہے۔یہ لکڑی چنبہ اور منڈی کے ہندوستان میں چلے جانے کی وجہ سے اور کشمیر کی حالت مشتبہ ہو جانے کی وجہ سے اب پاکستان کو نہیں مل سکے گی صرف مری اور ہزارہ سے کچھ لکڑی پاکستان کومل سکے گی مگر اس کی ضرورتوں کے لئے کافی نہیں۔اس لکڑی کے مہیا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ اور علاقے تلاش کرنے ہوں گے۔پاکستان کے ملحقہ علاقوں میں سے چترال اور بالائے سوات کے علاقہ میں یہ لکڑیاں بڑی کثرت سے پائی جاتی ہیں اور بعض بعض حصوں میں تو ہزار ہزار سال کے پرانے درخت پائے جاتے ہیں جن کی قیمت عمارتی لحاظ سے بہت ہی زیادہ ہوتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں سے لکڑی پاکستان میں پہنچائی نہیں جاسکتی۔چترال سے صرف ایک دریائی رستہ پاکستان کی طرف آتا ہے اور وہ حکومت کابل میں سے گزرتا ہے اُس کے سوا کوئی دریائی رستہ نہیں خشکی کے رستہ ان لکڑیوں کا پہنچانا بالکل ناممکن ہے۔دریائے کابل کے ذریعہ سے اس لکڑی کے لانے میں بہت سی سیاسی اور اقتصادی دقتیں ہوں گی۔اگر ریاست کا بل اجازت بھی دیدے تو لکڑی کا محفوظ پہنچنا نہایت ہی دشوار ہو گا۔اسی طرح بالائے سوات کی لکڑی کا پہنچنا اور بھی زیادہ مشکل ہے مگر بہر حال فوری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کو کچھ معاہدوں کے ذریعہ سے اس دقت کو دور کرنا چاہئے اور ساتھ ہی اس بات کی سروے کرانی چاہئے کہ کچھ پہاڑی کو ملا کر کیا کوئی ایسا نالہ نہیں نکالا جا سکتا جو کہ چترال اور بالائے سوات سے براہِ راست پاکستان میں داخل کیا جا سکے اگر ایسا ہو سکے تو یہ ضرورت پوری ہو جائے گی لیکن اس کے علاوہ جنگلات کے ماہروں کو اس بات کے لئے ہدایت ملنی چاہئے کہ وہ درختوں کی مختلف اقسام پر غور کر کے ایسی اقسام معلوم کریں جو پاکستان کی آب و ہوا میں اُگائے جاسکیں اور عمارتوں کی تعمیر اور جہازوں کی ساخت اور ریلیوں کی پڑیاں بنانے کے کام میں استعمال کئے جاسکیں۔نرم لکڑی نرم لکڑی کی ایک قسم بہت ہی نرم ہوتی ہے ان لکڑیوں سے دیا سلائی کی تیلیاں بنائی جاتی ہیں اس وقت تک یہ لکڑیاں انڈیمان اور نکو بار سے آتی تھیں مگر دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان میں بھی ایک اس قسم کا درخت پایا جاتا ہے جس کی لکڑی