انوارالعلوم (جلد 19) — Page 344
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۴۴ الفضل کے اداریہ جات بعد میں یہ فیصلہ دھوکا ثابت ہو گا۔میں اس چال کو سمجھتا ہوں ) اور اس طرح اسلامی عالم کو اپنے ساتھ ملانے کی ایک تدبیر پیدا کر لی۔اِن حالات میں اُنہوں نے محسوس کیا کہ عرب اپنی کامیابی کی وجہ سے پاکستان کی مصیبت کو اتنا محسوس نہیں کرے گا۔پس اب انہیں انڈین یونین کو خوش کر دینا چاہئے حقیقتا کشمیر کی تائید فلسطین کے فیصلہ کی وجہ سے تھی اور اب اس کی مخالفت فلسطین کے فیصلہ کے بدلنے اور سن کی بوریاں حاصل کرنے کیلئے ہے۔بعض چھوٹے چھوٹے فوائد اور بھی ہیں مگر بڑی باتیں یہ دو ہی ہیں۔ایک بڑی بات یہ بھی پیدا ہوگئی ہے بلکہ پیدا کی گئی ہے کہ ایسے اوقات میں اس سوال کو دوبارہ پیش کیا گیا ہے جب کہ چین کا نمائندہ جو شروع سے انڈین یونین کا ہمدرد تھا سیکیورٹی کونسل کا صدر ہے۔میرے نزدیک پاکستان حکومت کو اپنے وفد پر یہ زور دینا چاہئے کہ سر دست وہ واپس آ جائے اور وزارت سے بالمشافہ گفتگو کے بعد نئی پالیسی طے کرے۔اگر ایسا کیا گیا تو اس فتنہ سے بچنے کی راہیں نکل سکتی ہیں۔کشمیر کا مسئلہ ایک نہایت ہی نازک مسئلہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔میرے نزدیک اب بھی یہ مسئلہ کامیابی کے ساتھ طے کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے دو باتوں کی ضرورت ہے جن میں سے ایک مسلمانوں کے اختیار میں ہے اور ایک بڑی حد تک غیروں کے اختیار میں ہے۔مگر میرے نزدیک یہ دونوں مشکلات دُور کی جاسکتی ہیں اور کشمیر پاکستان کے ساتھ مل سکتا ہے لیکن سیاسی مصلحتیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ میں اُن باتوں کا ذکر کروں۔مجھے یقین ہے کہ یہ سوال حل کیا جا سکتا ہے لیکن میرا یقین کوئی قیمت نہیں رکھتا کیونکہ نہ اس معاملہ میں میرا دخل ہے نہ میری آواز کوئی اثر پیدا کر سکتی ہے۔جو اس مسئلہ سے دلچسپی رکھنے والے اور دوسری صف کے اثر رکھنے والے اشخاص ہیں میں نے اُن سے اِن باتوں کے متعلق گفتگو کی ہے اور وہ میرے خیال سے متفق ہیں لیکن فیصلہ وہی کر سکتے ہیں جن کے ہاتھ میں اختیار ہے اور دوسرے لوگوں کا غور اور فکر خواہ درست بھی ہو جب تک قبول نہ کر لیا جائے اس سے فائدہ نہیں ہو سکتا۔یہ بات یقینی ہے اور اس میں قحبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے گیا تو پاکستان بھی گیا۔پس مسلمانوں کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہئے اور صحیح طور پر اُسے ادا کرنے کی کوشش کرنی