انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 5

انوار العلوم جلد ۱۹ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب کی خوبیاں اور اُن کا پس منظر سمجھنے کی وجہ سے آپس میں لڑ رہے تھے۔اسی طرح بعض اوقات اختلاف کی بنیاد محض غلط نہی پر ہوتی ہے اور فریقین آپس میں جھگڑا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ نہ وہ اس کے نقطہ نگاہ کو سمجھ رہا ہوتا ہے اور نہ وہ اس کے نقطۂ نگاہ کو ، اور وہ آپس میں لڑتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر ایک دوسرے کے نقطہ نگاہ کو سمجھ لیا جائے تو اختلافات کی بنیاد اُٹھ جانے سے کوئی مشکل نہیں رہتی۔مثلاً یہ لاؤڈ سپیکر ہے اس کا جو حصہ میرے سامنے ہیں اس پر تارے سے ہیں اور پیچھے والا حصہ سیاہ ہے اگر میں کہہ دوں کہ لاؤڈ سپیکر پر تارے سے ہیں اور آپ لوگ کہنا شروع کر دیں کہ تارے تو نہیں بلکہ یہ تو سیاہ ہے تو باوجود یکہ ہم دونوں ٹھیک کہہ رہے ہوں گے ہم بحث کرتے چلے جائیں گے میں یہ کہتا رہوں گا کہ یہ سیاہ نہیں بلکہ اس پر تارے ہیں اور آپ کہتے رہیں گے ہمیں تو اس پر تارے نظر نہیں آتے ہمیں تو صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ سیاہ ہے۔اور بات صرف اتنی ہوگی کہ جدھر میں بیٹھا ہوں اُس طرف تارے ہیں اور جدھر آپ بیٹھے ہیں اُس طرف سے سیاہ ہے۔نقطہ نگاہ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ جہاں سے کوئی چیز نظر آ رہی ہو۔ہر مربعہ چیز کے چھ چہت ہوتے ہیں آگے پیچھے دائیں بائیں اور نیچے اوپر۔اگر اس چیز کی چھ کی چھ جہتیں مختلف رنگوں کی ہوں تو جب اس کی مختلف چہوں کو مختلف آدمی دیکھیں گے تو لازماً ان کی رائیں مختلف ہوں گی مثلاً اس کی چھ جہتوں پر مختلف رنگ ہیں زرد، سرخ اور پیلا ، سیاہ اور سفید تو اب جو شخص زرد حصہ کے سامنے ہو گا وہ کہے گا اس کا رنگ زرد ہے اور جس شخص کی نظر کے سامنے سرخ حصہ ہو گا وہ کہے گا زرد نہیں ہے اس کا رنگ سرخ ہے، پھر نیلے حصہ کو دیکھنے والا کہے گا تم دونوں غلط ہو نہ یہ زرد ہے نہ سرخ بلکہ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ چیز نیلی ہے۔اس طرح چھ جہات کو دیکھنے والے مختلف آراء قائم کریں گے اور ان میں سے ہر ایک سچ بول رہا ہو گا۔اس جھگڑے کو ختم کرنے کا یہ طریق ہوگا کہ سرخ کہنے والے کو سبز حصہ کی طرف لایا جائے اور نیلا کہنے والے کو سرخ اور سبز حصے دکھائے جائیں ورنہ نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ جھگڑتے چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کی بات نہیں مانیں گے ان میں سے ہر ایک حق پر بھی ہوگا اور ناحق پر بھی۔حق پر اس طرح کہ جو حصہ اُسے نظر آ رہا ہے وہ واقعی وہی ہے جو وہ کہتا ہے مگر جو حصہ دوسرے کو نظر آ رہا ہے وہ بھی واقعی وہی ہے جو دوسرا کہہ رہا ہے۔پس ہر ایک چیز کی ایک بیک گراؤنڈ (Back Ground) ہوتی