انوارالعلوم (جلد 19) — Page 245
انوار العلوم جلد ۱۹ ۲۴۵ الفضل کے اداریہ جات جب کچھ دنوں کے لئے اپنے وطن بھیرہ میں آئے تو انہیں ایک نئی انجمن اسلامیہ کی بنیادر کھے جانے کی خبر ملی اور اس کے عہدہ داروں کو اُن سے ملوایا گیا۔ایک صاحب کو پیش کیا گیا کہ یہ صاحب صدر مجلس اسلامیہ ہیں۔دوسرے صاحب کو پیش کیا گیا کہ یہ پریذیڈنٹ مجلس اسلامیہ ہیں۔اسی طرح ایک مجلس اسلامیہ کے مربی کے طور پر اور ایک صاحب پیٹرن ۱۵ کے طور پر پیش کئے گئے۔ان بزرگ نے علیحدگی میں سیکرٹری سے پوچھا کہ یہ کیا تماشہ ہے ایک مجلس کے دو دو صدر تو ہم نے کبھی سنے نہ تھے۔سیکرٹری نے جواب دیا کہ صاحب! جانے دیجئے جاہلوں کو اسی طرح بے وقوف بنایا جاتا ہے۔جب ہم نے انجمن اسلامیہ کی بنیا د رکھی تو ہمیں محسوس ہوا کہ فلاں فلاں دو شخصوں کو ملائے بغیر کام نہیں چل سکے گا مگر وہ دونوں صاحب برابر کے جوڑ تھے اس لئے ان میں سے کسی ایک کو صدر اور کسی کو نا ئب صدر نہیں بنایا جا سکتا تھا اس پر ہم نے ان کی جہالت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یہ تدبیر کی کہ ایک کا نام صدر رکھ دیا اور ایک کا نام پریذیڈنٹ رکھ دیا اور صدر صاحب کے کان میں یہ کہہ دیا کہ یہ انجمن اسلامیہ ہے اور صدر اسلامی نام ہے اس لئے یہی عہدہ بڑا ہے اور پریذیڈنٹ صاحب کے کان میں کہہ دیا کہ آجکل انگریزی راج ہے عربی کے ناموں کو کون پوچھتا ہے اصل عہدہ تو پریذیڈنٹ کا ہی ہے۔اب ان دونوں صاحبان سے ہم کام لے رہے ہیں اور ہمارا کام چل رہا ہے۔کانگرس اور مہا راجہ جموں نے بھی اسی تدبیر سے کام لیا ہے ایک صاحب کو دیوان کا عہدہ ملا ہوا ہے اور ایک صاحب کو پرائم منسٹر کا۔اعلان پرائم منسٹر سے کروائے جا رہے ہیں اور کام دیوان سے لیا جا رہا ہے۔ایک شہرت کی رشوت کا شکار ہے اور ایک اقتدار کے حاصل ہونے میں مگن ہے۔یہ دونوں خوش ہیں تو باقی لوگوں کے اعتراض کی حقیقت ہی کیا ہے۔بہر حال اس چال سے ایک طرف مہاراج نے اپنے اختیارات اپنے ہی ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں تو دوسری طرف وہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں مگر یہ چال اتنی خطرناک نہیں جتنی خطرناک یہ بات ہے کہ بوجہ آزاد حکومت کشمیر کے منظم نہ ہونے کے کشمیر اور پاکستان دونوں جگہوں پر گھبراہٹ کے آثار نظر آ رہے ہیں۔لاہور تو اس وقت غلط افواہوں اور جھوٹی خبروں کا مرکز بن رہا ہے۔ذرا کسی شخص کو کشمیر کے معاملات سے دلچسپی لیتے ہوئے دیکھیں تو لوگ جھٹ اس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں اور