انوارالعلوم (جلد 19) — Page 191
انوار العلوم جلد ۱۹ 191 الفضل کے اداریہ جات اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ قادیان قادیان اس وقت ہندوستان یونین کی دیانتداری کی آزمائش کا محل بنا ہوا ہے۔قادیان احمد یہ جماعت کا مرکز ہے جس کا یہ عقیدہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہیں اس کے پورے طور پر فرمانبردار اور مددگار رہیں۔جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی احمد یہ جماعت ہمیشہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتی تھی گومناسب طریق پر اس کی غلطیوں سے اسے آگاہ بھی کرتی رہتی تھی۔بعض لوگ جماعت احمدیہ کے اس طریق پر اعتراض کرتے تھے اور اسے انگریزوں کا خوشامدی قرار دیتے تھے۔جماعت احمد یہ اس کے جواب میں ہمیشہ یہی کہتی تھی کہ ہم صرف انگریزوں کے فرمانبردار نہیں بلکہ افغانستان میں افغانی حکومت کے اور عرب میں عربی حکومت کے۔مصر میں مصری حکومت کے اور اسی طرح دوسرے ممالک میں اُن کی حکومتوں کے فرمانبردار اور مددگار ہیں ہمارے نزدیک دنیا کا امن بغیر اس کے قائم ہی نہیں رہ سکتا کہ ہر حکومت میں بسنے والے لوگ اُس کے ساتھ تعاون کریں اور اُس کے مددگار ہوں۔پچھلے پچاس سال میں جماعت احمدیہ نے اس تعلیم پر عمل کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اس تعلیم پر عمل کرے گی۔جب ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اُس میں ہندوستان یونین اور پاکستان قائم ہوئے تو اُس وقت بھی جماعت احمدیہ نے اعلان کیا کہ ہندوستان یونین میں رہنے والے احمدی ہندوستان یونین کی پوری طرح اطاعت کریں گے اور پاکستان میں رہنے والے احمدی پاکستان حکومت کے متعلق جانثاری اور اطاعت سے کام لیں گے۔پاکستان حکومت نے تو ان کے اس اعلان کی قدر کی اور اچھے شہریوں کی طرف اس سے برتاؤ کیا لیکن ہندوستان یونین نے ان کے