انوارالعلوم (جلد 19) — Page 176
انوار العلوم جلد ۱۹ KY الفضل کے اداریہ جات مگر مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف مسلمانوں کو منتقل کرنے کے لئے پیدل قافلے بھی اب کم ہی چلتے ہیں بیسیوں جگہیں ایسی ہیں جہاں ہفتوں سے مسلمان پڑے ہیں اور فاقے سے مر رہے ہیں ، لوٹے جارہے ہیں قتل کئے جارہے ہیں لیکن ان کے نکالنے کی اب تک کوئی تجویز نہیں کی گئی۔جالندہر، نکودر ، گڑھ شنکر ، راہوں ، فتح گڑھ چوڑیاں اور قادیان چلا چلا کر تھک گئے ہیں لیکن پناہ گزینوں کو نکالنے کے لئے اب تک کوئی انتظام نہیں ہو سکا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کام بہت بڑا ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کا رکن بہت تھوڑے ہیں اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی گورنمنٹ نے آنے والوں کے بسانے کے متعلق جو کوششیں کی ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہیں اور قابل قدر بھی لیکن ہمارے نزدیک مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کو نکالنے کی جو تدابیر کی گئی ہیں وہ پوری مؤثر نہیں۔جب مشرقی پنجاب اور مغربی پنجاب کے درمیان یہ سمجھو نہ ہوا کہ ریفیوجی کیمپ کا بنانا اس ملک کے اختیار میں ہوگا جس ملک میں پناہ گزین بیٹھے ہوں گے۔تو گو یہ معاہدہ مغربی پنجاب کی حکومت نے کسی حکمت کے ماتحت ہی کیا ہوگا اور اس میں کچھ فائدہ ہی اس نے سوچا ہوگا مگر اس دن سے مشرقی پنجاب کے مسلمانوں پر بہت بڑی تباہی آ رہی ہے چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار آدمی جن جگہوں پر بیٹھے ہیں ان کو ریفیوجی کیمپ نہیں بنایا جاتا کیونکہ اب مسلمان کے لئے ریفیوجی کیمپ بنانا مشرقی پنجاب کی حکومت کے اختیار میں ہے اور جب مسلمان پناہ گزینوں کے علاقوں کو ریفیوجی کیمپ ہی قرار نہیں دیا جاتا تو اُن کی خوراک کی ذمہ داری بھی مشرقی پنجاب کی حکومت پر عائد نہیں ہوتی۔اس کی وجہ سے وہ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں، وہ گاڑیاں نہیں مانگتے ، وہ کچھ اور امداد طلب نہیں کرتے اُن کی فریا دصرف یہی ہے کہ ان کو مشرقی پنجاب سے نکال کر پاکستان کی سرحدوں میں داخل کر دیا جائے۔یہ بے کس اور بے پناہ ہجوم بعض تو پاکستان کی سرحد کے اتنے قریب بستے ہیں کہ تھوڑی سی جد و جہد سے ان کو نکالا جا سکتا ہے لیکن کوئی نہ کوئی روک ان کو نکالنے میں پیدا ہوتی چلی ہی جاتی ہے۔ہم مغربی پنجاب کی پاکستانی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس امر کی طرف زیادہ توجہ دی جائے ان لوگوں کا لاکھوں روپیہ کا مال لوٹا گیا ہے اور ہر روز ان کی عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے۔ہماری غیرت اور حمیت کا تقاضا ہے کہ اور سب کام چھوڑ کر بھی اس