انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 127

انوار العلوم جلد ۱۹ ۱۲۷ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے تمام اہم واقعات گا کیونکہ آپ وہ ہیں جو صلہ رحمی کرتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کے بوجھ بٹاتے ہیں اور وہ اخلاق فاضلہ جو دنیا سے معدوم ہو چکے ہیں ان کو از سر و قائم کر رہے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اگر کوئی شخص محض ظلم کی وجہ سے کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو آپ 0-4 اُس کی اعانت فرماتے ہیں کیا ایسے بلند کردار کا مالک انسان بھی کبھی ضائع ہو سکتا ہے۔یہ وہ گواہی تھی جو حضرت خدیجہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی چالیس سالہ زندگی کے متعلق دی اور جس میں آپ نے یہ حقیقت واضح کی کہ آپ کی پہلی زندگی اس طرح گذری ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے رستہ میں کبھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا اور ہر موقع پر آپ نے خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ تو خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کریں اور خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ وفاداری نہ کرے۔یہ تو خدا تعالیٰ کی شان سے بعید ہے کہ جو شخص اس کے ساتھ وفاداری کرے وہ اُس کو چھوڑ دے آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔پس آپ کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ الفاظ کہہ کر حضرت خدیجہ نے یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی تھی مگر ان الفاظ سے یہ بھی پایا جاتا ہے کہ سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والی حضرت خدیجہ ہی تھیں۔ان کے الفاظ تو آپ کی تسلی دلانے کے لئے تھے مگر اس کے معنی یہ تھے کہ یا رَسُولَ اللہ ! میں آپ پر ایمان لاتی ہوں اور جو تعلیم آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے اُس کو بالکل سچ اور صحیح تسلیم کرتی ہوں اور اس میں مجھے ذرہ بھر بھی شبہ نہیں ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ سے مانگنے پر ایک مددگار ملا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان دیکھو کہ آپ کو بن مانگے مدد گار مل گیا یعنی آپ کی وہ بیوی جس کے ساتھ آپ کو بے حد محبت تھی سب سے پہلے آپ پر ایمان لے آئی چونکہ ہر شخص کا مذہب اور عقیدہ آزاد ہوتا ہے اور کوئی کسی کو جبراً منوا نہیں سکتا اس لئے ممکن تھا کہ جب آپ نے حضرت خدیجہ سے خدا تعالی کی پہلی وحی کا ذکر کیا تو وہ آپ کا ساتھ نہ دیتیں اور کہہ دیتیں کہ میں ابھی سوچ سمجھ کر کوئی قدم اُٹھاؤں گی لیکن نہیں حضرت خدیجہ نے بلا تامل بلا توقف اور بلا پس و پیش آپ کے دعوی کی تائید کی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فکر کہ ممکن ہے خدیجہ مجھ پر ایمان نہ لائے جاتا رہا اور سب سے پہلے ایمان لانے والی حضرت خدیجہ ہی ہو ئیں۔اُس وقت خدا تعالی عرش