انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 82

انوار العلوم جلد ۱۹ ۸۲ قومی ترقی کے دوا ہم اصول یقین ہونا چاہئے کہ ہم جس مقصد کو لے کر کھڑے ہوئے ہیں وہ مقصد نہایت اعلیٰ ہے اور وہ وہی ہے جس کا ہمارے خدا نے ہمیں حکم دیا ہے اور تم سمجھ لو کہ خدا تعالیٰ نے جو امانت ہمارے سپرد کی ہے اس میں خیانت کرنا مؤمنانہ شان کے خلاف ہے اور ہم نے جو کچھ کرنا ہے محض خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے لئے کرنا ہے۔جب ہم میں سے ہر شخص اس راز کو اچھی طرح سمجھ لے گا اور اپنے اندر ایک نمایاں تبدیلی پیدا کرے گا تو وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آپ کے رنگ میں رنگیں ہو کر <mark>کامیابی</mark>وں پر <mark><mark>کامیابی</mark>اں</mark> حاصل کرتا چلا جائے گا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی صحابہؓ کو اس لئے <mark>کامیابی</mark> حاصل نہ ہوئی تھی کہ ان میں ابو بکر عمر ،عثمان ، اور علی تھے بلکہ اس لئے <mark>کامیابی</mark> حاصل ہوئی تھی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے سب کے سب آپ کے رنگ میں رنگیں ہو گئے تھے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ دین کی ساری ذمہ داری ہم پر ہی ہے۔جب انہوں نے اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کر لیا تو اُن کو ہر مشکل آسان نظر آنے لگ گئی اور انہوں نے دین کے لئے وہ قربانیاں پیش کیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آگئی اور اُس نے اپنے فرشتوں کی فوجیں ان کی مدد کے لئے اُتار دیں اور وہ جہاں بھی گئے کامیاب و با مراد ہوئے۔یہاں تک کہ وہ اس وقت کی تمام معلومہ دنیا پر چھا گئے اور انہوں نے دنیا کے کونے کونے میں خدا اور اس کے رسول کے نام کو بلند کر دیا۔آج ہماری جماعت بھی صحابہ کے نقش قدم پر چل رہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے بھی انہی قربانیوں کا مطالبہ کرے جن کا اس نے صحابہ سے مطالبہ کیا تھا جب تم وہ قربانیاں پیش کر دو گے تو خدا تعالیٰ کے فضل تم پر بھی اسی طرح نازل ہونے شروع ہو جائیں گے جس طرح صحابہ پر نازل ہوئے تھے۔فرموده ۶ جون ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب میں نے کل بتایا تھا کہ کسی قوم کی <mark>کامیابی</mark> کے لئے سب سے پہلی چیز جو ضروری ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے سامنے کوئی مقصد عالی ہوا اور پھر اس مقصد کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہو اور اس کے مفید ہونے پر اسے کامل یقین ہو، ایسا کامل یقین کہ کبھی اس کے متعلق قوم کے اندر یہ شبہ ہی پیدا نہ ہو کہ یہ مفید اور بابرکت نہیں ہے اور سب سے بہترین مقصد یہی ہو سکتا ہے کہ انسان یا قوم