انوارالعلوم (جلد 19) — Page 69
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۹ قومی ترقی کے دوا ہم اصول بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قومی ترقی کے دوا ہم اصول فرموده ۱۵ جون ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب بمقام قادیان ) کچھ دن ہوئے میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ جو جماعتیں اپنے اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا چاہیں ان کے لئے کچھ اصول مقرر ہوتے ہیں اور میں نے کہا تھا کہ میں ان اصول کے متعلق کسی مجلس میں کچھ باتیں بیان کروں گا مگر اس کے بعد چونکہ بعض اور مضامین شروع ہوتے گئے اس بان لئے یہ مضمون بیان نہ ہو سکا ۔ آج میں اسی مضمون کا کچھ حصہ بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ یا درکھنا چاہئے کہ کسی مقصد میں کامیابی کے لئے سب سے پہلی بڑی اور ضروری بات یہ ہوتی ہے کہ جماعت کو اپنے مقصد کے متعلق یقین ہو ۔ یعنی ایک مقصد عالیہ جو اس کے سامنے ہو اس کے متعلق اسے کامل یقین ہو کہ یہ مقصد ٹھیک ہے، صحیح ہے اور مفید ہے۔ دینی اور دُنیوی جماعتوں کے الگ الگ مقاصد ہوتے ہیں کوئی ایک مقصد انسان اپنے سامنے رکھ لیتا ہے اور اس کی کامیابی کے لئے کوشش شروع کر دیتا ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِكُلِّ وَجْهَةً هُوَ مُوَيّتها لے یعنی ہر شخص کے سامنے ایک مقصد ہوتا ہے جس کی طرف وہ اپنی پوری توجہ مبذول کر دیتا ہے اس جگہ وجمة سے مراد وہ مقاصد عالیہ ہیں جو مفید اور با برکت ہوں چاہے وہ دینی ہوں یا دنیوی، دینی جماعتوں کے سامنے بھی ایک مفید مقصد کا ہونا ضروری ہوتا ہے اور دُنیوی جماعتوں کے پیش نظر بھی ایک مفید اور با برکت مقصد کا ہونا ضروری ہوتا ہے، جب تک ان دونوں قسم کی جماعتوں کے سامنے کوئی مفید اور بابرکت مقصد نہ ہو ان کے اندر بیداری پیدا نہیں ہو سکتی مثلاً مسلمانوں کو دیکھ لو آج سے تھوڑا عرصہ پیشتر ان کے اندر کوئی انجمنیں نہ تھیں اور یہ لوگ کانگرس کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے لیکن جب مراد دو وہ مطرح صلح ۔ نظر یا مقاء