انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 65

انوار العلوم جلد ۱۹ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں کے پاس آیا اور کہا اب تمہارے ہی ذریعہ اس جرم سے ہم بیچ سکتے ہیں اس لئے تم ان سے جا کر کہہ دو کہ میرے بھائیوں نے تمہارے جانور نہیں چرائے۔انہوں نے کہا میں تو جھوٹ نہیں بول سکتا ، جب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ یہ چوری کر کے لائے ہیں تو اب میں کس طرح جھوٹ بول سکتا ہوں۔اس پر باپ اور بھائیوں نے ان کو خوب مارا اور کہا خبر دار اگر سچ بولا کیا تم اپنے بھائیوں کے ساتھ اتنی بھی ہمدردی نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا تم ان سے جا کر کہہ دو کہ مغلا تو کافر ہے، اس کی گواہی تم کیوں مانتے ہو۔چنانچہ مغلا کا باپ اور بھائی جانوروں کے مالکوں کے پاس گئے اور کہا مغلا تو کا فر ہو گیا ہے اس کی گواہی سے تم کس طرح اطمینان حاصل کر سکتے ہو۔انہوں نے کہا ، ہے تو وہ کا فرمگر وہ جھوٹ کبھی نہیں بولتا اس لئے ہم اسی کی گواہی لیں گے اور کسی کی گواہی پر ہمیں اعتبار نہیں ہے۔باپ اور بھائی پھر ان کے پاس آئے اور کہا وہ تو تمہاری گواہی مانگتے ہیں اس لئے ہمارے ساتھ چلو اور صفائی پیش کرو یہ ان کے ساتھ چلے گئے اور بھری مجلس میں کہہ دیا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں کو جانور لاتے دیکھا ہے۔اس پر ان کے باپ اور بھائیوں نے انہیں خوب مارا۔پس لوگ احمدیت کی کتنی بھی مخالفت کریں جہاں کہیں کوئی خاص ذمہ داری کا کام ہوتا ہے انہی کو آگے کیا جاتا ہے۔یہ بھی سلسلہ کی سچائی کا کتنا بڑا ثبوت ہے کہ مخالف بھی اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ لوگ سچ بولتے ہیں۔اَلْفَضْلُ مَا شَهِدَتْ بِهِ الْأَعْدَاءُ الفضل ۱۵ ، ۱۶ ، ۱۷ ، ۲۱ ستمبر ۱۹۶۱ ء ) سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۸۵،۸۴ مطبوعه مصر ۱۹۳۶ء اسد الغابة جلد ۵ صفحہ ۴۲۸ میں زینب کی بجائے حمنہ کا ذکر ہے تاریخ ابن تاثیر جلد ۲ صفحه ۶۳ ۱ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۶۸،۲۶۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ۵ سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۰۴، ۱۰۵ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء سیرت ابن هشام جلد ۳ صفحه ۱۰۴ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ك بخاری کتاب الانبیاء باب ۵۷ حدیث ۳۴۷۷