انوارالعلوم (جلد 19) — Page 64
انوار العلوم جلد ۱۹ ۶۴ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں میں ایک میاں مغلا ہیں جو بالکل ان پڑھ ہیں ان کے بچے آج کل مدرسہ احمدیہ میں پڑھتے ہیں اور وہ جھنگ کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے کہیں سے احمدیت کا نام سن لیا اور چونکہ فطرت میں نیکی تھی وہ قادیان تحقیق کیلئے آئے اور بیعت کر کے واپس گھر چلے گئے۔جب ان کے گھر والوں کو ان کی احمدیت کے متعلق علم ہوا تو ان کو خوب مارا پیٹا گیا اور بہت سی تکلیفیں دی گئیں۔ان کے کھانے پینے کے برتن الگ کر دیئے گئے وہ علاقہ جس میں وہ رہتے ہیں چوروں کا ہے اور وہاں کے لوگوں میں چوری کا اتنا رواج ہے کہ وہ اس کو شرعاً یا اخلاقا بر افعل نہیں کہتے۔گوجرانوالہ، شیخوپورہ ، جھنگ اور لائکپور وغیرہ کے علاقوں میں چوری کا اتنا رواج تھا کہ ایک ڈپٹی کمشنر نے ان اضلاع کے متعلق ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں اس نے لکھا تھا کہ ان لوگوں کے اندر چوری کی عادت اتنی زیادہ ہے کہ یہ ان کا ویسا ہی پیشہ ہو گیا ہے جیسے کہ زمینداری کا اور یہ لوگ اس کے بغیر گزارہ کر ہی نہیں سکتے اس لئے ان علاقوں میں چوری کو جرم قرار نہیں دینا چاہئے۔یہ فن اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ اس پیشہ میں بھی بڑے بڑے رؤساء اور سردار ہوتے ہیں جن کا لوہا چوری پیشہ لوگوں میں مانا جاتا ہے کسی کو شاہ چور کا خطاب دیا جاتا ہے اور کسی کو شہنشاہ چور کا۔اور جو چھوٹے چور ہوتے ہیں وہ اپنی چوریوں میں سے ان رؤساء کا حصہ مقرر کرتے ہیں اور جب کوئی چوری کرتے ہیں تو ان کا حصہ ان کے گھروں میں پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے فلاں کی بھینس چرائی تھی اس میں سے آپ کا اتنا حصہ ہے۔ہماری جماعت کے ایک دوست بھی احمدیت سے پہلے شاہ چور تھے وہ بھی اپنے واقعات سنایا کرتے تھے کہ جب میں نے چوری چھوڑ دی تو بھی یہ حالت تھی کہ میرے گھر پر مجھے دوسرے چوروں سے حصہ ملتا رہا اور چور آ کر مجھے کہتے تھے آپ ہمارے سردار ہیں۔وہ دوست ۱۹۱۸ ء میں احمدی ہوئے تھے اور اس کے بعد انہوں نے اس پیشہ کو چھوڑ کر تو بہ کر لی۔غرض میاں مغلا نے سنایا کہ ان کے بھائیوں نے کسی کے ہاں چوری کی اور کچھ جانور چرا لائے۔جانوروں کے مالک کھوج نکالتے ان کے گھر پہنچے اور ان کے باپ کو کہا کہ تمہارے بیٹوں نے ہمارے جانور چرائے ہیں۔ان کے باپ نے انکار کر دیا تو انہوں نے کہا ہمیں تمہاری بات کا یقین نہیں آتا۔ہاں اگر میاں مغلا کہہ دے کہ تیرے بیٹوں نے چوری نہیں کی تو ہم مان جائیں گے۔چنانچہ میاں مغلا کا باپ ان