انوارالعلوم (جلد 19) — Page 55
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۵ مصائب کے نیچے برکتوں کے خزانے مخفی ہوتے ہیں جب سہولت اور آرام ہو تو لوگ اخلاق دکھاتے ہیں لیکن جب مقابلہ اور مشکلات پیش آئیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے لکھنؤ والوں کے اخلاق کے متعلق اپنا ایک لطیفہ یاد ہے میری شادی چھوٹی عمر میں ہی ہوگئی تھی اُس وقت میری عمر چودہ اور پندرہ سال کے درمیان تھی اور یہ عمر بچپن کی عمر میں ہی شمار ہوتی ہے۔اس وقت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب آگرہ میں تھے ہم یو پی میں گئے تو کئی دفعہ تھے مگر وہاں کے مخصوص اخلاق سے کبھی واسطہ نہ پڑا تھا ہم اپنے قریبی رشتہ داروں کے ہاں جا کر ٹھہرا کرتے تھے اور وہاں اپنے بزرگوں سے ڈانٹ ڈپٹ ہی سننے میں آتی تھی۔قبلہ اور حضرت کبھی سنا نہ تھا۔غرض جب شادی کے وقت میں آگرہ میں گیا تو ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب نے میرے اعزاز میں وہاں کے رؤساء کو دعوت دی ان میں ایک شہر کے مجسٹریٹ صاحب بھی تھے جب کھانا کھا چکے اور وہ رؤساء واپس ہونے لگے تو وہ مجسٹریٹ صاحب میرے پاس آئے اور بڑی تعظیم کے ساتھ جھک جھک کر سلام کرنے لگے۔میں نے اپنی یہاں کی عادت کے مطابق ان کی تعظیم کی مجھے تو جھکنا آتا نہ تھا مگر میں ان کے جھکنے پر دل ہی دل میں کہہ رہا تھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں میں ان کی تعظیمی حرکات پر بڑی مشکل سے ہنسی کو ضبط کر سکا۔اُس وقت جو مجھ سے ایک حرکت سرزد ہوئی اُس کو یاد کر کے اب بھی بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔وہ یوں ہوا کہ مجھ سے ملنے کے بعد جونہی ان مجسٹریٹ صاحب نے منہ موڑا میں نے اُن کی نقل اُتارنی شروع کر دی اور اتفاق ایسا ہوا کہ دروازہ تک پہنچ کر اُن کو کوئی کام یاد آ گیا اور وہ واپس مڑ آئے۔میں ان کے واپس مڑنے سے بے خبر رہا اور اسی طرح اُن کی نقل اُتارتا رہا۔میں نے جو آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو وہ سامنے کھڑے تھے یہ دیکھ کر مجھے سخت شرمندگی اٹھانی پڑی کہ یہ اپنے دل میں کیا سمجھتے ہوں گے۔غرض ان کے تکلفات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ جس کی حد ہی نہیں مگر اخلاق فاضلہ کا پتہ در حقیقت مشکل اور مصیبت کے وقت لگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اُحد کی جنگ ایک نہایت صبر آزما جنگ تھی اس سے پہلے کبھی آپ پر قاتلانہ حملہ نہ ہوا تھا اور نہ صرف یہ کہ جنگ احد میں آپ پر حملہ ہی ہوا اور نہ صرف یہ کہ آپ کے بعض دانت بھی ٹوٹ گئے اور نہ صرف یہ کہ آپ زخمی ہو گئے بلکہ دشمن آپ