انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 599

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۹ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب قائم رہ سکے۔کشمیر نکل جانے کے بعد پاکستان کی حیثیت اس قسم کی ہو جاتی ہے اور پاکستان ایسے خطرات میں گھر جاتا ہے کہ اگر اُس کے ہمسائے اُس سے عداوت رکھتے ہوں جیسا کہ وہ رکھتے ہیں تو پاکستان کے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں رہتی۔میں سمجھتا ہوں آج ہر پاکستانی مسلمان کے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ آزاد کشمیر کے معاملہ میں دلچسپی لے۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کا معاملہ ایسی بے سروسامانی کے ساتھ شروع کیا گیا کہ جن دنوں کشمیر میں برف پڑ رہی تھی اور سردی اپنے زوروں پر تھی سپاہیوں کے پاس رات کو اوڑھنے کے لئے کپڑے تک نہ تھے۔میرے نزدیک اُنہوں نے غیر معمولی قربانی سے کام لیا ہے اور اُن کی یہ روح اس قابل ہے کہ اُس کی تعریف کی جائے۔نومبر کے آخر بلکہ دسمبر کے شروع میں یہ غور کیا جا رہا تھا کہ اُن کے لئے کہاں سے کپڑے مہیا کئے جائیں اور جنوری کے آخر میں اُنہیں کپڑے بھجوائے گئے مگر اس عرصہ میں سردی سے جو اُنہیں نقصان پہنچنا تھا وہ پہنچ گیا اور فتح میں جو روکیں پیدا ہونی تھیں وہ پیدا ہوگئیں۔اس طرح اور بہت سی باتیں ہیں جن کو پبلک میں بیان کرنا مناسب نہیں مجھے چونکہ اس معاملہ سے دلچسپی ہے اس لئے مجھے وہاں کے سارے حالات معلوم ہیں اُن کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ وہاں کی حالت اس قسم کی ہے جو خطرہ والی ہے اور حالات تسلی بخش نہیں اگر خدانخواستہ انڈین یونین کی فوجیں جیت جائیں تو یقیناً پاکستان کی حفاظت ناممکن ہو جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ معجزانہ رنگ میں کوئی اور صورت پیدا کر دے تو دوسری بات ہے اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں حاصل ہیں اور وہ بڑی قدرتوں کا مالک ہے لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اپنی عقل سے کام لیں اور خدا تعالیٰ کے مادی قانونوں پر غور کرتے ہوئے اپنی حفاظت کا سامان کریں کیونکہ قانون بھی اُسی کے بنائے ہوئے ہیں۔بہر حال وہاں کے حالات ایسے تسلی بخش نہیں پھر ہم مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں۔میں نے اس کے متعلق بعض تحریکات کی تھیں جن کی بناء پر ہفتہ کشمیر منایا گیا اور کچھ ضروری چیزیں فوجیوں کے لئے بھجوائی گئیں۔ہماری یہ مدد فوج کے لئے کافی نہیں ہو سکتی لیکن یہ اُن کے حوصلوں کو بڑھانے والی ضرور ہے جیسے بچہ کے پیٹ میں درد ہوتا ہے تو ماں اُسے تھی کاتی جاتی ہے اور کہتی ہے ماں قربان تو کیوں روتا ہے۔ماں قربان کہنے سے اُس کا دردکم نہیں ہوسکتا لیکن اس ہمدردی کی وجہ سے اُس کی تکلیف کا احساس ضرور کم ہو جاتا ہے اسی طرح اگر پاکستان کی طرف