انوارالعلوم (جلد 19) — Page 598
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۹۸ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ اگر لاکھوں کروڑوں کی قوم مرنے کیلئے تیار ہو جائے تو اس قوم کو کوئی مار نہیں سکتا۔آج ہی ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے کیا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا اس میں میرے سمجھنے کا سوال نہیں اگر مسلمان بحیثیت قوم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم مر جائیں گے تو یقیناً انہیں مارنے کی کوئی قوم طاقت نہیں رکھتی۔دینی لحاظ سے بھی یہ ناممکن بات ہے اور دنیوی لحاظ سے بھی ناممکن ہے۔پس اگر ہماری زبانوں پر خالی نعرے نہیں ہوا کرتے بلکہ ہم واقعہ میں آزادی کے خواہشمند تھے اور آزادی کی قدر و قیمت کو سمجھتے تھے تو آزادی کی چھوٹی سے چھوٹی قیمت جان دینا ہوتی ہے۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں جان دینا سب سے بڑی قربانی ہے۔جان دینا سب سے بڑی نہیں بلکہ سب سے چھوٹی قربانی ہے۔اگر مسلمان اپنے اختلافات کو دور کر کے پاکستان کیلئے جان دینے کو تیار ہو جائیں تو میں یقین رکھتا ہوں اور میرا یقین ایک طرف تاریخ پر مبنی ہے جس کا میں نے کافی مطالعہ کیا ہوا ہے اور دوسری طرف قرآن پر مبنی ہے جو میرا خاص مضمون ہے اور اس لحاظ سے اِس میں ۱۰۰۰ را غلطی کا بھی امکان نہیں کہ اگر مسلمان واقعہ میں مرنے کیلئے تیار ہو جائیں تو میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان ایک دائی حکومت بن جائے گی مگر میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جیسے اور ز بر دست حکومتیں ایک لمبے عرصہ تک دنیا پر حکومت کرتی چلی جاتی ہیں اسی طرح پاکستان کے افرادا اپنی اولادوں کیلئے ایک لمبا اور شاندار مستقبل قائم کر دیں گے۔الفضل ربوه ۲۴ اکتوبر + ۷ / نومبر ۱۹۶۲ء) دوسری بات سے جو میں آپ لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں اس کے متعلق خواہ آپ لوگ یہ سمجھ لیں کہ مجھے اُس کے متعلق ایک خبط ہے خواہ یہ سمجھ لیں کہ چونکہ میں نے اس تحریک میں کام کیا ہوا ہے اس لئے مجھے اُس کا احساس ہے بہر حال میں اُس کے متعلق آپ لوگوں کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔آزادی کشمیر کے متعلق جو پہلی تحریک ہوئی تھی اُس کی ایسوسی ایشن کا میں پریذیڈنٹ تھا اور شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس صاحب میرے ماتحت کام کرتے رہے ہیں اب آزادی کشمیر کے لئے دوسری ایجی ٹیشن شروع ہے اگر اس وقت نقشہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کو بتا تا کہ یہ قطعی طور پر ناممکن امر ہے کہ کشمیر کے نکل جانے کے بعد پاکستان اپنی موجودہ شکل میں