انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 588

انوارالعلوم جلد ۱۹ ۵۸۸ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دے دیا کہ تم اپنے کپڑوں اور بدن کو صاف رکھا کرو اسی طرح ان میں کوئی تنظیم نہیں تھی وہ بالکل پراگندہ حالت میں تھے اسلام نے ان کو حکم دے دیا کہ وہ پانچ وقت مسجد میں اکٹھے ہو جایا کریں۔اس طرح گو بظا ہر نماز کا حکم دیا گیا مگر دراصل یہ غرض تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے ڈر کے مارے جب مسجد میں آئیں گے اور انہیں قوم اور ملک کے حالات بتائے جائیں گے تو ان میں سیاسی بیداری پیدا ہو جائے گی اور وہ دنیا پر غالب آنے کی کوشش کریں گے۔مجھے یاد ہے میں بچہ تھا کہ میں نے ایک اخبار میں ایک دفعہ اس کے متعلق ایک مضمون پڑھا۔ایک صاحب جو مسلمانوں کے مبلغ سمجھے جاتے تھے اور جاپان اور امریکہ میں تبلیغ کر کے آئے تھے انہوں نے واپس آنے پر علی گڑھ میں ایک لیکچر دیا جو اخبار میں شائع ہوا اور میں نے بھی پڑھا۔اس لیکچر میں انہوں نے بیان کیا کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ نماز بڑی ضروری چیز ہے اور پانچ وقت مسجد میں باجماعت ادا ہونی چاہئے ، دراصل ایسا کہنے والے حقیقت پر کبھی غور نہیں کرتے وہ یہ سمجھتے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔پرانے زمانے کے لحاظ سے اس کے احکام اور رنگ رکھتے تھے اور اس زمانہ کے لحاظ سے اور رنگ رکھتے ہیں۔بے شک احکام وہی رہیں گے مگر حالات کے لحاظ سے ان کی ہیئت بدلتی چلی جائے گی۔عرب لوگ جاہل تھے وہ ننگے رہتے تھے۔کپڑے اُن کے پاس بہت کم ہوا کرتے تھے اس لئے اُن کو سجدہ اور رکوع کا حکم دے دیا گیا۔مگر اب وہ زمانہ ہے کہ اگر سجدہ کیا جائے یا رکوع کے لئے جھکا جائے تو پتلونوں کی کریزیں بالکل خراب ہو جائیں۔اس زمانہ میں اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تو وہ یقیناً اس حکم میں ترمیم کرتے اور یقینا وہ یہی کہتے کہ بیچ پر بیٹھے بیٹھے اگر سر جھکا لیا جائے تو اتنا ہی کافی ہے رکوع اور سجدہ کی کوئی ضرورت نہیں۔اسی طرح روزہ ہے یہ روزہ ان لوگوں کیلئے ہے جو بہت کھا جاتے ہیں۔عرب لوگ وحشی تھے اور وہ اپنے معدہ کا خیال نہیں رکھتے تھے اس لئے اسلام نے انہیں روزوں کا حکم دے دیا مگر اب تہذیب کا دور دورہ ہے اب لوگ اپنے پیٹ کا خیال رکھتے ہیں۔اب اگر صبح شام صرف ناشتہ کر لیا جائے اور کیک بسکٹ کھائے جائیں لیکن دن بھر کچھ نہ کھایا جائے تو روزہ کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔غرض مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان