انوارالعلوم (جلد 19) — Page 587
۵۸۷ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب انوار العلوم جلد ۱۹ مسلمان ہو تو اس کے فطرتی جذبات کا بہاؤ اور ان کا متفقہ مطالبہ خود اپنے اندر اتنی طاقت رکھتا ہوگا کہ حکومت ان کے سامنے اپنے ہتھیار پھینکنے کیلئے تیار ہو جائے گی۔آخر انسان جانور سے تو زیادہ عقل رکھتا ہے۔جانوروں میں ہم دیکھتے ہیں کہ دو کہتے آپس میں لڑنے لگے ہیں تو پہلے وہ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں اور تھوڑی دیر تک غوں غوں کرتے رہتے ہیں پھر ان میں سے ایک کتا اپنی دُم نیچی کر کے چلا جاتا ہے کیونکہ وہ محسوس کر لیتا ہے کہ دوسرا کتا مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔اگر کتے میں یہ حس پائی جاتی ہے کہ وہ زیادہ طاقتور کتے کے سامنے اپنی دم جھکا دیتا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک حکومت سنجیدگی سے یہ سمجھ کر کہ تمام لوگ متفقہ طور پر اس سے ایک مطالبہ منوانے پر تلے ہوئے ہیں اور پھر بھی وہ ان کا مطالبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دے ایسی صورت میں حکومت ایک دن تو کیا ایک منٹ کیلئے بھی نہیں چل سکتی۔افسر چپڑاسی کو حکم دیتا ہے کہ فلاں کام کرو۔اس پر وہ فوراً شور مچا دیتا ہے کہ میں اس حکم کو تسلیم نہیں کر سکتا کیونکہ تم اسلام پر عمل نہیں کرتے۔مرد اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے تو وہ اس سے گفتگو کرنے سے انکار کر دیتی ہے اور کہتی ہے میں تم سے نہیں بول سکتی کیونکہ تم سچے مسلمان نہیں۔اگر ہر گھر اور ہر محکمہ میں اس طرح ہونے لگے تو بتاؤ کسی حکومت کی کیا طاقت رہ جاتی ہے۔پس ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اسلام پیدا کرنے کی کوشش کر یں اگر ہم اپنے اندر اسلام پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو محض آئین اسلام کے نفاذ کا شور مچانا بالکل بے فائدہ ہے۔مثلاً اگر ہم اپنے دل میں یہ سمجھتے ہیں کہ نماز پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں تو نماز کے متعلق اگر کوئی قانون بھی بن جائے تو ہمیں کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں میں ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جو نماز نہیں پڑھتا اس لئے نہیں کہ وہ نماز کا قائل نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اگر ہم نماز نہیں پڑھیں گے تو وہ ہمیں بخش دیگا۔آخر اُس نے گنہ گاروں کو ہی بخشنا ہے اگر گناہ کرنے والے نہ ہوئے تو وہ بخشے گا کن کو؟ یہ جواب غلط ہے یا صحیح اس کے متعلق بحث نہیں بہر حال یہ ایک جواب ہے جو اُنہوں نے سوچا ہوا ہے لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ یہ احکام پرانے زمانہ میں محض عربوں کی اصلاح کیلئے دیئے گئے تھے۔عرب لوگ بالکل وحشی تھے اور وہ سخت غلیظ رہتے