انوارالعلوم (جلد 19) — Page 586
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۶ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب ہونے سے پہلے پہلے وہ اپنے آپ کو اسلامی رنگ میں رنگین کر لیں۔آخر حکومت کسی چیز کے زور پر چلتی ہے۔حکومت فوج کی طاقت پر چلتی ہے اگر ہر فوجی سچا مسلمان ہو ، اگر ہر فوجی اسلام کیلئے اپنے دل میں کچی غیرت رکھتا ہو، اگر حکومت کو یقین ہو کہ اسلام کے خلاف کوئی بات کہی گئی تو ساری فوج میں بغاوت ہو جائے گی تو کونسی حکومت ہے جو اسلامی آئین کا نفاذ نہ کرے۔اسی طرح حکومت اگر چلتی ہے تو پولیس کی طاقت پر۔اگر پولیس کا ہر فر دسچا مسلمان ہو، اگر پولیس کا ہر فرد اپنے دل میں اسلام کیلئے کچی غیرت رکھتا ہو اور اگر حکومت کو یقین ہو کہ اسلام کے خلاف کوئی بات بھی پولیس برداشت نہیں کر سکتی ، اگر کوئی ایسی بات کی گئی تو ساری پولیس میں بغاوت ہو جائے گی تو کونسی حکومت یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ اسلامی آئین کو نافذ نہ کرے۔اسی طرح جس قدر محکمے ہیں سول کے محکمے لے لو یا ملٹری کے اگر ان تمام محکموں میں کام کرنے والے بچے مسلمان ہوں تو ممکن ہی نہیں کہ ان کے متفقہ مطالبہ کے سامنے کوئی حکومت ٹھہر سکے کیونکہ وہ جانتی ہوگی کہ ان کے مقابلہ کی اس میں طاقت نہیں۔فرض کرو پاکستان ایک فرد ہوتا اور ایک وزیر ہوتا گویا صرف دو وجود ہوتے تو کیا پاکستان کا وزیر اپنے اکلوتے بیٹے کو مارنے کی جرات کر سکتا تھا ؟ ایک بیٹے سے جو محبت ہوتی ہے اس سے ہزاروں گنا زیادہ محبت انسان کو اپنے مذہب سے ہوتی ہے اور جب اسے معلوم ہو کہ اس کا ایک ہی بیٹا اس سے وہ چیز مانگ رہا ہے جس سے زیادہ قیمتی چیز دنیا میں اور کوئی نہیں تو کونسا انسان ہے جو یہ خیال بھی اپنے دل میں لا سکے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو وہ چیز نہیں دے گا یا اسی رنگ کی ایک اور مثال لے لو۔فرعون جس نے موسیٰ کے وقت میں بنی اسرائیل کے ہزاروں بچوں کو ذبح کر ڈالا تھا اس نے یہ فعل کس لئے کیا ؟ اسی لئے کہ فرعون جانتا تھا کہ اس کی حکومت کے ذمہ دار افراد اس فعل کو نا پسند نہیں کرتے۔اگر یہی فیصلہ آج دنیا کی کوئی حکومت کرے اور وہ فیصلہ کر دے کہ سب بچوں کو مار دیا جائے تو کیا وہ حکومت ایک دن بھی قائم رہ سکتی ہے؟ جس دن وہ اپنی اس سکیم کا اعلان کرے گی اُسی دن لوگوں کی بغاوت اسے توڑ کر رکھ دے گی کیونکہ وہاں یہ سوال ہی نہیں ہوگا کہ پچاس فیصدی لوگ حکومت کے خلاف ہیں یا اسی فیصدی بلکہ ساری کی ساری پبلک اس کے خلاف ہوگی اور وہ پبلک کے زور کے مقابلہ میں ایک دن کے لئے بھی نہیں ٹھہر سکے گی۔اسی طرح اگر پبلک سچے طور