انوارالعلوم (جلد 19) — Page 582
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۸۲ مسلمانانِ بلوچستان سے ایک اہم خطاب ہے۔پرسی کاک کو بھی اپنی ہتک محسوس ہوئی اور اس نے کہا میرا خیال تھا کہ آپ کی جماعت بڑی ایڈوانسڈ (Advanced) ہے میں نے کہا یہ آپ کی غلطی ہے ہماری جماعت تو تیرہ سو سال پیچھے جانے کی کوشش کرتی ہے ہم نہیں جانتے کہ ہم اس مقصد میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں مگر بہر حال ہم آگے نہیں جاتے بلکہ ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم آج سے تیرہ سو سال پیچھے کی طرف جائیں۔وہ آدمی شریف تھا میری بات کو سمجھ تو گیا مگر میں نے دیکھا کہ اس کی بیوی نے اس میں ایسی ذلت محسوس کی کہ یوں معلوم ہوتا تھا وہ بے ہوش جائے گی۔آخر میں نے اس کی دلجوئی کیلئے اپنی بیوی سے اسے چٹھی لکھوائی اور اسے دعوت پر بلایا ، اس کے خاوند کو بھی بلوایا گیا اور ان سے باتیں ہوتی رہیں اور آخر وہ دونوں خوش ہو گئے مگر بہر حال اس کا طبائع پر اثر ضرور پڑتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے نتیجے میں لوگ ہمیں بُرا سمجھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسے بد تہذیب لوگ ہیں ، عورتوں کی بے عزتی کرتے ہیں حالانکہ سوال عورتوں کی بے عزتی کا نہیں بلکہ سوال اسلام پر عمل کرنے کا ہے۔ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ہتک نہ ہو، ہم ان کے احترام کا خیال رکھتے ہیں، ہم ان کی جائز رنگ میں عزت کرتے ہیں مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کے کسی حکم کی بے قدری ہو۔سر جارج ھم (SIR GEORGE CUNNINGHAM ہمارے خاندانی دوست ہیں ان کے دادا کے ہمارے دادا کے ساتھ تعلقات تھے۔شملہ میں وہ کئی دفعہ مجھے ملے۔ایک دفعہ شملہ میں افغانستان کے سفیر نے ایک دعوت کی اور اس میں مجھے بھی بلا یا۔نواب صاحب بھوپال اور میں اکٹھے ایک طرف بیٹھے تھے اتفاق کی بات ہے سر جارج مسنلھم دوسری طرف تھے اور سر ہیری ہیگ اس طرف بیٹھے تھے جس طرف میں تھا۔جب دعوت ختم ہوئی تو میں جلدی سے باہر نکلا کیونکہ میں جانتا تھا کہ انگریز افسروں کی بیویاں ان کے ساتھ ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ مجھ سے مصافحہ کرنے کی کوشش کریں۔میرے سیکرٹری جو میرے ساتھ تھے ان سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے آگے بڑھ کر نتھم صاحب کے پاس میرا ذکر کر دیا اور کہا کہ وہ بھی اس دعوت میں شریک تھے اور اب جا رہے ہیں۔مسلھم صاحب اپنی بیوی کو ساتھ لئے میرے پاس آ گئے۔مصیبت یہ تھی کہ سارے گورنمنٹ آفیسر زان کے ساتھ تھے۔انہوں نے خود تو مصافحہ کر