انوارالعلوم (جلد 19) — Page 579
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۷۹ مسلمانان بلو چستان سے ایک اہم خطاب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مسلمانان بلو چستان سے ایک اہم خطاب فرموده ۱۴ رجون ۱۹۴۸ء بمقام کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ بعض احباب نے یہ خواہش ظاہر فرمائی ہے کہ میں اس موقع پر کچھ باتیں بیان کروں گو انہوں نے بتا یا نہیں کہ کیا باتیں ہوں ۔ اُنہوں نے مجھ پر چھوڑ دیا ہے کہ جو باتیں میرے نزدیک مسلمانوں کیلئے مفید ہوں میں انہیں بیان کروں۔ میں سمجھتا ہوں سب سے پہلی چیز جو مسلمانوں کیلئے یہاں بھی اور دنیا کے ہر گوشہ اور ہر ملک میں نہایت ضروری ہے اور جس کے بغیر ہماری ساری کوششیں اور دعوے اور ادعا باطل ہو جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارا مذہب اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ وہ ایک زندہ مذہب ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔ دنیا کے باقی مذاہب بھی بے شک اپنے سچے ہونے کے مدعی ہیں لیکن اسلام اور قرآن ایک ایسے مذہب کو پیش کرتا ہے جس کی تائید میں ہمیشہ خدا تعالیٰ اپنے نشانات اور قدرتوں کا اظہار کیا کرتا ہے پس ایک زندہ مذہب کا پیرو ہونے کے لحاظ سے ہمارے اپنے اندر بھی زندگی ہونی چاہئے ۔ آخر خدا تعالیٰ اپنی قدرتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ اور پھر آپ کے تابعین کے ذریعہ سے دنیا کو دکھاتا رہا ہے یا نہیں ۔ وہ ہمیشہ اپنی تائیدات ایسے رنگ میں دکھاتا رہا ہے کہ لوگوں کو حیرت ہوتی تھی کہ کیا کوئی ایسا سلسلہ بھی اس دنیا میں موجود ہے جس کی تائید کے سامان صرف مادی اسباب سے وابستہ نہیں بلکہ مادیات سے بالا ایک اور ہستی ان کی تائید کیلئے غیر معمولی سامان پیدا کر دیا کرتی ہے وہی سلسلہ اس زمانہ میں بھی جاری ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ ہمارا حزب ہمیشہ غالب رہے گا لے