انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 37

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۷ خوف اور امید کا درمیانی راسته ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی تائید میں کوئی آواز نہیں اُٹھتی۔انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں طرف کو یکساں دیکھا جائے جہاں راولپنڈی اور ملتان کے ظلم کو دیکھا جائے وہاں لا ہور اور امرتسر کے ظلم کو بھی دیکھا جائے ، لاہور اور امرتسر کے مسلمانوں نے جو دفاعی اقدام کیا وہ حالات سے مجبور ہو کر کیا اور جب حالات اس قسم کے ہو جاتے ہیں تو یہ بات کسی کے اپنے بس میں نہیں رہتی مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک چیز کو تو انتہائی طور پر ابھارا جا رہا ہے لیکن دوسری کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ خاص طور پر رعایت سے کام لیا جا رہا ہے۔جو اُٹھتا ہے وہ کہتا ہے نواکھلی کے مظالم کو دیکھو، راولپنڈی اور ملتان کے مظالم کو دیکھو مگر یہ کوئی بھی نہیں کہتا کہ بمبئی ، بہار، گڑھ مکتیسر ، احمد آباد، امرتسر اور لاہور کے مظالم کو بھی دیکھو۔تمام اخبارات راولپنڈی اور ملتان کا ذکر الاپتے ہیں مگر انصاف کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اس طرف کا ذکر نہیں کرتے جس سے ان کے اپنے گھر پر زد پڑتی ہے۔کانگرس کے اخبارات تو ایسا کریں گے ہی کیونکہ وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں لیکن دوسرے اخبارات کا بھی یہی وطیرہ ہے یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں اور وہ مسلمانوں کو اِس خطرہ اور مصیبت سے آگاہ کر رہی ہیں جو ان پر آنے والا ہے مگر مسلمان ہیں کہ خواب خرگوش سے بیدار ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔زمانہ ان کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہا ہے لیکن وہ جاگنے کا نام نہیں لیتے ،مصائب کے سیاہ بادل امڈے چلے آتے ہیں لیکن مسلمان اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں ، مخالفت کے طوفان ان کے سفینے پر بار بار تباہ کر دینے والی لہریں اُچھالتے ہیں لیکن وہ ابھی تک یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ یہ سب کچھ خواب ہے اور باقی تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ دعوے پر دعوے کرتے چلے جاتے ہیں کہ ہم ایک ایک انچ کے لئے یوں کر دیں گے اور ہم یہ کر کے دکھا دیں گے لیکن ان کا عملی پہلو اتنا کمزور ہے کہ اس کو دیکھ کر کوئی عقلمند ان کے دعوؤں کو لفاظی سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتا۔جہاں وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایک ایک انچ کے لئے اپنی جانیں لڑا دیں گے وہاں وہ یہ بھی شور مچاتے ہیں کہ فلاں D۔S۔P یاS۔P یا فلاں تھانیدار کو بدل دیا جائے۔گویا ایک طرف تو ان کے دعو سے اتنے بلند ہیں کہ سننے والا یہ اندازہ لگاتا ہے کہ شاید یہی لوگ اپنے علاقہ کے کرتا دھرتا ہیں اور دوسری طرف وہ تھانیداروں کی تبدیلی کے لئے شور