انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 571

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۷۱ الكفُرُ مِلَّة وَاحِدَةً بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ الْكُفْرُ مِلَّةً وَاحِدَةٌ وہ دن جس کی خبر قرآن کریم اور احادیث میں سینکڑوں سال پہلے سے دی گئی تھی ، وہ دن جس کی خبر تو رات اور انجیل میں بھی دی گئی تھی ، وہ دن جو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ اور اندیشناک بتایا جاتا تھا معلوم ہوتا ہے کہ آن پہنچا ہے۔فلسطین میں یہودیوں کو پھر بسایا جا رہا ہے۔۔کشمیر کا معاملہ پاکستان کے لئے نہایت اہم ہے لیکن فلسطین کا معاملہ سارے مسلمانوں کیلئے نہایت اہم ہے۔کشمیر کی چوٹ بالواسطہ پڑتی ہے فلسطین کی چوٹ بلا واسطہ پڑتی ہے۔فلسطین ہمارے آقا اور مولی کی آخری آرام گاہ کے قریب ہے جن کی زندگی میں بھی یہودی ہر قسم کے نیک سلوک کے باوجود بڑی بے شرمی اور بے حیائی سے ان کی ہر قسم کی مخالفتیں کرتے رہے، اکثر جنگیں یہود کے اُکسانے پر ہوئی تھیں۔کسری کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کروانے پر انہوں نے ہی اُکسایا تھا۔خدا نے ان کا منہ کالا کیا مگر انہوں نے اپنے خبث باطن کا اظہار کر دیا۔غزوۂ احزاب کی لیڈری یہو دہی کے ہاتھ میں تھی ، سارا عرب اس سے پہلے کبھی اکٹھا نہ ہوا تھا مکہ والوں میں ایسی قوت انتظام تھی ہی نہیں۔یہ مدینہ سے جلاوطن شھدہ یہودی قبائل ہی کا کارنامہ تھا کہ اُنہوں نے سارے عرب کو اکٹھا کر کے مدینہ کے سامنے لا ڈالا۔خدا نے ان کا بھی منہ کالا کیا مگر یہود نے اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہ رکھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل دشمن تو مکہ والے تھے مگر مکہ والوں نے کبھی دھو کے سے آپ کی جان لینے کی کوشش نہیں کی۔آپ جب طائف گئے اور ملک کے قانون کے مطابق مکہ کے شہری حقوق سے آپ دستبردار ہو گئے مگر پھر آپ کو کوٹ کر مکہ میں آنا پڑا تو اُس وقت مکہ کا ایک شدید ترین دشمن آپ کی امداد کیلئے آگے آیا اور مکہ میں اُس نے اعلان کر دیا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ۔