انوارالعلوم (جلد 19) — Page 36
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۶ خوف اور امید کا درمیانی راستہ ہندوستان کے اندر انگریز افسر عام طور پر ہندوؤں اور سکھوں کی تائید کرتے ہیں مسلمانوں کی نہیں کرتے۔جہاں تک زیادتی اور ظلم کا سوال ہے اس کا دونوں قوموں نے ارتکاب کیا ہے کسی جگہ ہندوؤں نے اور کسی جگہ مسلمانوں نے جن جن جگہوں میں مسلمانوں نے ظلم کیا ہے ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے ظلم کیا ہے ہم بُرے فعل کو ضرور بُرا کہیں گے مگر ہم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاں مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے اس کے خلاف بھی آواز اُٹھنی چاہئے نہ کہ اسی ظلم کے خلاف جو مسلمانوں نے کیا ہے۔لاہور اور امرتسر میں جو فسادات ہوئے ہیں ان میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر ظلم کیا ہے اور ہندوؤں نے ہی فسادات کی ابتداء بھی کی ہے۔بے شک را ولپنڈی اور ملتان وغیرہ میں مسلمانوں نے بھی ظلم کیا اور اگر انہوں نے ظلم کیا ہے تو ہماری جماعت یہ نہیں کہے گی کہ وہاں مسلمانوں نے ظلم نہیں کیا لیکن ہم یہ کہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے کہ جہاں ہر وقت یہ شور مچایا جا رہا ہے کہ راولپنڈی اور ملتان میں مسلمانوں نے ظلم کیا وہاں یہ آواز بھی تو اُٹھنی چاہئے کہ لاہور اور امرتسر میں ہندوؤں نے ظلم کیا۔امرتسر کے اندر مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندوؤں نے جی بھر کر ان پر مظالم تو ڑے ہیں اس میں شبہ نہیں کہ وہاں ہندوؤں کے مکانات بھی جلے ہیں اور ان کو نقصان پہنچا ہے لیکن ابتداء ہندوؤں ہی کی طرف سے ہوئی اور یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک کا مکان جلے اور وہ دوسرے کا مکان نہ جلائے۔جب ہندوؤں نے ظلم کرنے میں پہل کی تھی تو مسلمانوں میں جوش کا پیدا ہونا ایک طبعی امر تھا ہاں ملتان والوں کا یہ حق نہ تھا کہ وہ امرتسر کا بدلہ وہاں کے ہندوؤں سے لیتے۔ان کو چاہئے تھا کہ وہ جتنے بنا کر امرتسر پہنچتے اور ظالموں کا مقابلہ کرتے۔اسی طرح راولپنڈی والوں کا یہ حق نہ تھا کہ وہ امرتسر کا بدلہ وہاں کے ہندوؤں سے لیتے بلکہ ان کا حق یہ تھا کہ وہ جتھا در جتھا امرتسر میں پہنچ جاتے اور اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کرتے۔جہاں تک امرتسر کے نقصانات کا سوال ہے اس میں شبہ نہیں کہ وہاں کے ہندوؤں کو بھی نقصان پہنچا ہے لیکن ہندوؤں نے بلیک مارکیٹ میں سے اربوں روپیہ کمایا ہوا تھا اگر ان کا دس کروڑ کا نقصان بھی ہو گیا تو کیا ہوا ایک فی صدی نقصان کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا مگر دوسری طرف امرتسر کے مسلمان بالکل تباہ ہو گئے ہیں ان کی ساری کی ساری جائدادیں فسادات کی نذر ہو گئی ہیں اور وہ نان شبینہ کے بھی محتاج ہو چکے