انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 35

انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۵ خوف اور امید کا درمیانی راستہ مگر وہاں کی حکومت چونکہ غیر ملکی نہیں بلکہ ان کی اپنی ہے اس لئے وہ سیاست کے ماتحت حکومت کے ساتھ حتی الامکان تعاون سے کام لیتے ہیں۔چنانچہ جب میں ولایت گیا تو ہمارے وہاں جانے پر تمام انگریزی اخبارات نے بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھے اور قریباً تمام اخبارات نے ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ گویا وہ ہمیں خوش کرنا چاہتے تھے۔ابھی میں وہاں ہی تھا کہ مجھے خبر پہنچی کہ امان اللہ خاں والی کا بل نے ہمارے مبلغ مولوی نعمت اللہ صاحب کو سنگسار کر دیا ہے ہم نے وہاں جلسہ کیا اور بڑے ریزولیوشن پاس کئے اور اخبارات کو بھجوائے لیکن ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہی اخبارات جنہوں نے ہمارے جانے پر بڑے لمبے چوڑے مضامین لکھے تھے اور کئی دن تک صفحوں کے صفحے سیاہ کرتے رہے انہوں نے سوائے اس کے کہ اپنے اخباروں کے کسی گوشے میں اس خبر کو جگہ دے دی نمایاں طور پر کسی نے بھی شائع نہ کیا۔ہمیں اس بات پر سخت تعجب ہوا اور ہم نے مختلف اخبار والوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا تو انہوں نے آگے سے یہ بہانہ کر کے ٹال دیا کہ چونکہ آجکل سیاسی معاملات بہت زیادہ ہیں اور ہمیں ان پر مضامین شائع کرنے پڑتے ہیں اور چونکہ پبلک کو ان سیاسی مسائل سے زیادہ دلچسپی ہے اس لئے افسوس ہے کہ ہم اس خبر کو نمایاں طور پر شائع نہیں کر سکے مگر ایک دو اخبارات ایسے بھی تھے جن کا تعلق ہمارے ساتھ دوستانہ تھا انہوں نے صاف کہ دیا کہ ہمیں تو گورنمنٹ کی طرف سے اس قسم کا اشارہ پہنچا ہے کہ یہ خبر شائع نہ کی جائے کیونکہ اس طرح افغانستان کی حکومت سے ہمارے تعلقات خراب ہو جائیں گے ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں لیکن ملکی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اس لئے ہم ایسا کرنے پر مجبور تھے۔پس یہ بھی ممکن ہے کہ انگلستان کی حکومت نے ہی وہاں کے اخبارات کو مسلمانوں کے خلاف اور ہندوؤں کے حق میں آواز اُٹھانے کے لئے اشارہ کر دیا ہو۔بہر حال اِس وقت انگلستان والوں کی رائے عامہ مسلمانوں کے خلاف ہے امریکہ جو پہلے ہندوؤں کی بہت زیادہ تائید کیا کرتا تھا بلکہ مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کچھ کہنا سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا اب اس کے اندر تھوڑی بہت تبدیلی ہو رہی ہے اور اب جو مضامین وہاں کے اخبارات میں چھپتے ہیں ان سے پتہ لگتا ہے کہ گو وہ مسلمانوں کے حق اور تائید میں آواز نہیں اُٹھا تا لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس نے پہلے جیسی مخالفت چھوڑ دی ہے۔اِدھر