انوارالعلوم (جلد 19) — Page 33
انوار العلوم جلد ۱۹ ۳۳ خوف اور امید کا درمیانی راسته بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خوف اور امید کا درمیانی راسته فرموده ۲۹ رمئی ۱۹۴۷ ء بعد نماز مغرب ) ان ایام میں مسلمان ایک نہایت ہی نازک دور میں سے گزر رہے ہیں اور ان کے اندر موجودہ حالات کی نزاکت کا اتنا احساس نہیں پایا جاتا جتنا کہ پایا جانا چاہئے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن خوف اور رجاء کے درمیان درمیان ہوتا ہے نہ تو اس پر خوف ہی غالب آتا ہے اور نہ اس پر امید غالب آتی ہے بلکہ یہ دونوں حالتیں اس کے اندر به یک وقت پائی جانی ضروری ہیں جہاں اس کے اندر خوف کا پایا جانا ضروری ہے وہاں اس کے اندر امید کا پایا جانا بھی ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ نہ تو وہ خوف کی حدود کو پار کر جائے اور نہ امید کی حدود سے تجاوز کر جائے اور یہی وہ اصل مقام ہے جو ایمان کی علامت ہے یا خوش بختی کی علامت ہے اور اس میں مؤمن ہونے کی بھی شرط نہیں اگر کوئی مسلمان نہ بھی ہو اور وہ اس اصل پر عمل کرے اور وہ خوف ورجاء کے درمیانی راستہ پر قدم زن ہو تو یہ اس کی خوش بختی کی علامت ہوگی ورنہ وہ تباہی کا منہ دیکھے گا۔یہی خوف و رجاء کے الفاظ جو قر آن کریم میں استعمال ہوئے ہیں بعینہ اسی قسم کے اور انہی معنوں میں انگریزی دان مدبرین نے بھی الفاظ چنے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہی انسان اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے جو نہ OPTIMIST ہو یعنی ہر چیز کو امید کی نگاہ سے دیکھنے والا ہو اور نہ PESSIMIST یعنی ہر چیز میں ناامیدی کا پہلو نکالنے والا ہو بلکہ ان دونوں کے درمیانی راستہ پر چلے۔اگر وہ ہر چیز کا روشن پہلو دیکھتا رہے گا اور بُرے پہلو کو نظر انداز کر دے گا تو وہ بھی نا کامی کا منہ دیکھے گا اور اگر وہ گلی طور پر نا امیدی کا پہلو دیکھتا رہے گا اور امید کے پہلو کو نظر انداز کر دے تو بھی اس کی یہ