انوارالعلوم (جلد 19) — Page 526
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۶ سیر روحانی (۴) تو سمندر کی پاتال میں۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچے اور راستباز انسان تھے آپ کے دل میں اپنے خدا کا سچا عشق تھا اور خدا تعالیٰ کے دل میں مقامِ محمدیت کی بے انتہاء محبت تھی پس وہ دونوں بے قرار ہو کر ایک دوسرے کی طرف دوڑے جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:۔وصل کا تب مزہ ہے کہ دونوں ہوں بے قرار دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے ملنے کے لئے اوپر کی طرف صعود کیا اور خدا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے نیچے کی طرف نزول کیا اور اس کے نتیجہ میں دونوں کی قوسیں ایک بن گئیں اور دونوں کے تیر ایک نشانہ پر پڑنے لگے۔تین خوبیوں والا کلام فاوحی الی عَبْدِهِ مَا أَوْحَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاي ب فَأَوْحَى تب اللہ تعالیٰ کا کلام اس مینار پر نازل ہو اجس میں یہ تین خوبیاں تھیں۔اول اُس نے الفاظ میں کلام کیا دوم آنکھوں سے نظارہ دیکھا سوم دل سے اُسے قبول کیا اور اس پر ایمان لایا۔مخالفین اسلام کے شکوک کا ازالہ پھر فرماتا ہے افَتُمُرُونَهُ عَلَى مَا يَرَى وَلَقَدْرَاهُ نَزَلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنتَهی کیا تم نے اس کی بات پر شک کرتے ہو کہ :- (1) شاید فلسفیانہ خیالات کی رو میں بہہ گیا ہے۔(۲) شاید شیطان نے اس پر کلام نازل کیا ہے۔(۳) شاید ہو ا و حرص کے جذبات پھیپھڑے بن کر اسے نظر آ رہے ہیں۔مگر تم اس کا کیا جواب دو گے کہ اُس نے یہ مینار پر نزول ایک دفعہ نہیں دیکھا بلکہ دو دفعہ دیکھا ہے اور پھر اس نزول کو سِدْرَةِ الْمُنتَهی کے نزدیک دیکھا ہے یعنی پیشگوئیوں کے مطابق دیکھا ہے ان کے بغیر نہیں۔کیا کسی جھوٹے کے لئے یہ ممکن ہے کہ جب جب اس کی قوم مصیبت میں مبتلاء ہو ایک آسمانی وحی کا مدعی اس کی تائید کے لئے کھڑا ہو جائے اور وہ کھڑا بھی اس