انوارالعلوم (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 669

انوارالعلوم (جلد 19) — Page 525

انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۵ سیر روحانی (۴) قادیانی کہتے ہیں یا مشرقی پنجاب میں سکھ ہماری جماعت کے ہر شخص کو مولوی کہتے تھے گو وہ ایک لفظ بھی عربی کا نہ جانتا ہو اسی طرح اُس زمانہ میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو صابی کہا جاتا تھا اور چونکہ عوام الناس میں یہی نام رائج تھا اس لئے جب خالد بن ولید نے انہیں دعوتِ اسلام دی تو انہوں نے بجائے یہ کہنے کے کہ ہم اسلام قبول کرتے ہیں کہ دیا کہ صبانا ،صبانا ہم صابی ہوتے ہیں ہم صابی ہوتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید نے ان الفاظ کی کوئی پرواہ نہ کی اور اُن میں سے بعض کو قتل کر دیا اور بعض کو قیدی بنا لیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے اور فرمایا اللهُم إِنِّي أَبْرَءُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ اے خدا! میں اُس فعل سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جس کا ارتکاب خالد نے کیا ہے اور آپ نے یہ فقرہ دو دفعہ دہرایا۔۳۰ آسمانی اور زمینی تیر ایک نشانہ پر ان مثالوں سے پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی غیر مُجرم پر تیر نہیں چلا یا جہاں خدا تعالیٰ کا تیر چلا وہیں آپ کا بھی تیر چلا اور جہاں آپ کا تیر چلا وہیں خدا تعالیٰ نے بھی تیر چلایا ، اسی طرح آپ کی زندگی میں کوئی ایک بھی مثال ایسی نظر نہیں آتی ، جہاں آپ نے تیر چلا نا مناسب سمجھا ہو اور خدا تعالیٰ نے تیر نہ چلایا ہو ، جہاں آپ کی ساری زندگی میں ایک مثال بھی ایسی نہیں پائی جاتی کہ خدا تعالیٰ نے تیر نہ چلایا ہو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلا دیا ہو، وہاں ایسی بھی کوئی مثال نظر نہیں آتی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر چلانا مناسب سمجھا ہو اور خدا تعالیٰ نے نہ چلایا ہو۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے فَكَانَ قَابَ قَوسَيْنِ أَوْ ادنی میں بیان فرمایا ہے کہ دونوں کی کمانیں ایک ہوگئیں اور دونوں کے تیر ایک ہی نشانہ پر پڑنے لگے غرض مَاتَشَاءُ وُنَ إِلَّا اَنْ يَّشَاءَ اللهُ اور مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمی کے ماتحت دونوں ایک مینار پر جمع ہو گئے انسانیت بھی بلند مینار پر جا کھڑی ہوئی اور الوہیت بھی انسان کی ملاقات کے لئے بے تاب ہو کر آسمان سے اُتر آئی۔صعود ونزول کا پُر کیف نظارہ بے شک فرعون نے بھی ایک مینار بنایا تھا مگر اسے اس مینار پر خدا تعالیٰ نظر نہ آیا کیونکہ وہ جھوٹا تھا اُسے نظر آیا