انوارالعلوم (جلد 19) — Page 524
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۴ سیر روحانی (۴) اب میں قابو آ گیا ہوں تو اس نے کہا لَا إِلَهَ إِلَّا الله جس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر حضرت اسامہ نے اُس کی کوئی پرواہ نہ کی اور اُسے قتل کر دیا۔ بعد میں کسی شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی ، آپ حضرت اسامہ پر سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تو نے کیوں مارا جب کہ وہ اسلام کا اقرار کر چکا تھا۔ حضرت اسامہ نے کہا وہ جھوٹا اور دھو کے باز تھا وہ دل سے ایمان نہیں لایا صرف ڈر کے مارے اُس نے اسلام کا اقرار کیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناراضگی کے لہجہ میں فرمایا کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ لیا تھا کہ وہ سچے دل سے اسلام کا اظہار نہیں کر رہا تھا ؟ یعنی جب وہ کہہ رہا تھا کہ میں اسلام قبول کرتا ہوں تو تمہارا کوئی حق نہیں تھا کہ تم یہ کہتے کہ تم مسلمان نہیں ۔ اسامہ بن زید نے اپنی بات پر پھر اصرار کیا اور کہا يَا رَسُولَ اللہ ! وہ تو یونہی باتیں بنا رہا تھا ورنہ اسلام اس کے دل میں کہاں داخل ہو اتھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسامہ! تم قیامت کے دن کیا جواب دو گے جب اس کا لَا إِلَهَ إِلَّا الله تمہارے سامنے پیش کیا جائے گا اور تمہارے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا ۔ اسامہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نا راضگی کو دیکھ کر اُس دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کاش ! میں اس سے پہلے کا فر ہی ہوتا اور آج مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق ملتی تا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے فعل کی وجہ سے اتنا دکھ نہ پہنچتا ۔ ۲۹ حضرت خالد بن ولید کے ایک فعل سے اظہار براءت اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ کی طرف بھیجا اس زمانہ میں کفار عام طور پر مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے جیسے آجکل ہمیں مرزائی یا قادیانی کہا جاتا ہے یہ دراصل جہلاء کی ایک غلطی ہے جس میں بعض لکھے پڑھے بھی شریک ہو جاتے ہیں ۔ اگر کسی شخص کا نام اس کے ماں باپ ئے گا اور نہ نے عبدالرحمن رکھا ہے تو اسے عبدالشیطان کہنے سے نہ وہ عبدالشیطان بن جائے گا عبدالشیطان کہنا کوئی شرافت ہو گی ۔ اسی طرح صحیح طریقہ تو یہی ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کو حنفی کہتا ہے تو اُسے حنفی کہو ، شیعہ کہتا ہے تو شیعہ کہو ہستی کہتا ہے تو سنی کہو، مگر جس طرح لوگ ہمیں مرزائی یا