انوارالعلوم (جلد 19) — Page 520
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۲۰ سیر روحانی (۴) قرب کو حاصل کر سکیں لیکن وہ لوگ جن کی اصلاح کے لئے آپ مقرر ہوئے تھے ان میں سے ہر شخص میں تو یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اتنا اونچا جا سکتا ان لوگوں کے لئے ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ نیچے کی طرف نزول کرتا ۔ چنانچہ فرماتا ہے فَتَدَلَّى تَدَلَّی کے معنے ہیں اوپر کی چیز نیچے آ گئی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اوپر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ چڑھتے چڑھتے آپ نے اپنے مقصود کو پالیا مگر جب آپ نے اوپر چڑھنا شروع کیا تو خدا تعالیٰ نے کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو آگئے باقی لوگ نہیں آ سکتے تب خدا تعالیٰ خود کچھ نیچے آیا تا کہ کمزور مخلوق کی نجات کی بھی صورت بنے اور اُس نے ایک زاویہ بنا دیا جہاں ہر انسان بشرطیکہ وہ اپنی استعدادوں سے کام لے پہنچ سکتا اور خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کر سکتا ہے۔ مغفرت اور قرب الہی کے ذرائع یہ مضمون ایک لمبی تشریح کا حامل ہے مگر اس وقت میں صرف ایک دو باتیں اور بیان کر دیتا ہوں جن سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کسی طرح بنی نوع انسان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ جو اَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ہے ان سے ملنے کے لئے نیچے آیا اور اُس نے اپنے قُرب کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ۔ واقعہ معراج کے متعلق جو احادیث پائی جاتی ہیں ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے پچاس نمازیں بنی نوع انسان کیلئے مقرر فرمائی تھیں لیکن پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے ان کو کم کرتے کرتے اُمتِ محمدیہ کے لئے صرف علیہ پر تعالی کے پانچ نمازیں مقرر فرمائیں مگر ساتھ ہی فرمایا کہ گو نمازیں پانچ ہی ہونگی مگر ان کو شمار پچاس کیا جائے گا یعنی ایک شخص پڑھے گا تو پانچ نمازیں مگر خدا تعالیٰ کے دربار میں اس کی پچاس نمازیں لکھی جائیں گی۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہر ایک نیکی کے بدلہ میں انسان کو دس گنا دیا جاتا ہے اور بدی یا تو معاف کر دی جاتی ہے اور یا اس کے اعمال نامہ میں صرف ایک بدی ہی لکھی جاتی ہے۔ یہ طریق ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے اوپر چڑھنے کے لئے مقرر فرمایا ہے بندہ ایک نیکی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کی دس نیکیاں لکھتا ہے اور پھر قیامت کے دن اُن دسوں کو ایک ایک سمجھ کر پھر دس دس بنا دیتا ہے اور بندہ ایک بدی کرتا ہے اور خدا تعالیٰ صرف ایک ہی بدی لکھتا ہے اور بعض دفعہ تو ایک بھی نہیں لکھتا تو بہ پر اُس کو معاف فرما دیتا ہے۔ و دس اجر