انوارالعلوم (جلد 19) — Page 519
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۱۹ سیر روحانی (۴) کرنے سے ملول ہوا اور دل میں غم کیا اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین سے مٹا ڈالوں گا انسان سے لے کر حیوان اور رینگنے والے جانداروں اور ہوا کے پرندوں تک کیونکہ میں ان کے بنانے سے ملول ہوں“۔۲۶ غرض خدا آسمان پر بیٹھا ہو ا تھا اس نے جب بنی نوع انسان کی خرابی دیکھی تو چاہا کہ میں ایک نئی مخلوق پیدا کروں کیونکہ وہ ذُو مِرہ تھا وہ چاہتا تھا کہ ایک کامل اور اکمل انسان کو پیدا کرے جو لوگوں کو گمراہی سے بچا کر نور و ہدایت کی طرف لائے یہاں آ کر خدا تعالیٰ نے درمیان میں سے اس مضمون کو حذف کر دیا ہے کہ اس ارادہ کے مطابق اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور چن کر کہا کہ یہ وہ شخص ہے جو اس قابل ہے کہ میں اُسے برکت دوں اور اُسے دنیا کے لئے ایک نمونہ بناؤں۔محمد رسول اللہ کا خدا تعالیٰ کی طرف صعود اس کے بعد فرماتا ہے دنا جب خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور انہیں آواز دی کہ اے محمد رسول اللہ ! تو میرے پاس آ کہ میں نے تجھے دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے چن لیا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچا ہونا شروع کیا۔یہاں مینار کا لفظ استعمال نہیں ہو اگر تمثیلی زبان میں ایک مینار کا ہی ذکر کیا گیا ہے کیونکہ پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الأغلى خدا تعالیٰ او پر بیٹھا ہوا ہے اور وہ محمد رسول اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرتا ہے اور انہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی طرف صعود شروع کیا دنی کے معنی یہی ہیں کہ وہ قریب ہوتے گئے یعنی خدا سے ملنے کے لئے اوپر ہوتے گئے گویا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمدی سے اوپر چڑھنے شروع ہوئے اور آخر آپ عرش تک جا پہنچے ( چنانچہ معراج میں ایسا ہی ہوا )۔خدا تعالیٰ کا بنی نوع انسان کی نجات کے لئے آسمان سے نزول مگر سوال یہ ہے کہ ان میں تو طاقت تھی کہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں ہر شخص تو اتنا اونچا نہیں جا سکتا۔بے شک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اخلاص اور محبت اور فدائیت کے لحاظ سے اپنے اندر یہ استعد ا در کھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے