انوارالعلوم (جلد 19) — Page 510
انوار العلوم جلد ۱۹ ۵۱۰ سیر روحانی (۴) فرمایا ہے وہ فرماتا ہے وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ وَمَا اَدْركَ مَا الطَّارِقُ - النَّجْمُ الثَّاقِبُ یعنی ہم شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں رات کے آنے والے کو اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ رات کو آنیوالا کون ہے؟ وہ ایک چمکنے والا ستارہ ہے نجم کے معنے عام ستارہ کے بھی ہیں اور ثریا کے بھی ہیں پس اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ایک ظلمت اور تاریکی کا زمانہ اسلام پر آنے والا ہے۔اُس وقت ایک رات کو آنے والا آئے گا اور لوگوں کے دروازہ پر دستک دے گا کہ میں تمہیں بچانے کے لئے آ گیا ہوں۔اب دیکھو یہ دستک دینے والا کوئی آدمی ہی ہوگا ورنہ آسمانی ستارہ کو ہم طارق نہیں کہہ سکتے۔پس النَّجْمُ الشَّاقِبُ میں مہدی معہود کی خبر دی گئی ہے جس کا نور مؤمنوں کے لئے برکت اور زندگی کا موجب ہوگا اور اس کی چوٹ دشمنوں کے لئے مُہلک ہو گی۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ نجم ثاقب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا ایک زندہ نشان ہوگا گویا یہ الزام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگایا جاتا ہے کہ آپ نَعُوذُ بِاللَّهِ ضَالَّ ہیں ، غَاوِی ہیں نَاطِقُ عَنِ الْهَوای ہیں اس کو دُور کرنے کے لئے ایک ستارہ اُترے گا اور اس کا اُتر نا ثبوت ہوگا اس بات کا کہ آپ صال نہیں غَاوِی نہیں ، نَاطِقُ عَنِ الْهَوای نہیں۔یہ ثبوت کیونکر ہوگا ، اس کے لئے صداقت معلوم کرنے کا ایک اہم اصول ایک موٹی بات جو ہر شخص سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ کوئی جھوٹا آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جو تعلیم میں پیش کر رہا ہوں اس میں جب کبھی رخنہ واقع ہو گا اُس وقت کوئی اور آدمی پیدا ہو جائے گا جو میرے کام کو سنبھال لے گا۔یہ اتنی نمایاں بات ہے کہ عیسائی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی سختی سے اعتراضات کرنے کے عادی ہیں وہ بھی اس بات پر قائم ہیں کہ کسی نبی کی صداقت کی علامت ہی یہ ہوتی ہے کہ اس کی کسی اور نبی نے خبر دی ہو اور اس نے اپنے بعد کسی اور نبی کے ظہور کی پیشگوئی کی ہو۔عیسائیوں کی دو غلطیاں اب جہاں تک اس اصول کا تعلق ہے ان کی یہ بات تو سچی ہے مگر وہ اس بات کو پیش کرتے وقت دو غلطیاں کرتے