انوارالعلوم (جلد 19) — Page 486
انوارالعلوم جلد ۱۹ ۴۸۶ سیر روحانی (۴) حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات سن کر کہا کہ اس کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے، یہ کہتا ہے کہ مجھ سے خدا اور اس کے فرشتے باتیں کرتے ہیں، یہ جھوٹ بولتا ہے، میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔اے ہامان ! تم میرے لئے ایک اونچا سا مینار تیار کرو، میں بھی اس پر چڑھ کر دیکھوں کہ آسمان پر کیا ہوتا ہے اور آسمانی اسباب اور ذرائع سے پتہ لوں کہ کیا موسیٰ سچ کہ رہا ہے یا جھوٹ۔پُرانے زمانے میں سب سے اونچے مینار مصر میں ہی بنا کرتے تھے اور یہ اونچے مینا راسی خیال کے تحت بنائے جاتے تھے کہ مصری سمجھتے تھے کہ ارواح سماویہ آسمان سے اُترتی ہیں تو بلندی پر رہنے کی وجہ سے وہ بلند جگہوں کو پسند کرتی ہیں اسی لئے وہ اپنے بزرگوں اور بادشاہوں کی قبریں بلند میناروں کی شکل میں بنایا کرتے تھے مگر چونکہ اُس وقت تک حساب کا علم ابھی مکمل نہیں ہو ا تھا اس لئے وہ سیدھا اور گول مینار بنانے کی بجائے اس شکل کی عمارات بنایا کرتے یعنی ان کی چوٹی تو صرف چند مربع گز کی ہوتی تھی ،لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہوتی تھی، بعد میں جب حساب مکمل ہوا اور بنیادوں اور سدھائی کا علم ہوا تو سیدھے گول میناروں کا رواج ہو گیا۔میں جب مصر میں گیا تھا تو میں نے بھی ان میناروں کو دیکھا تھا یہ اتنے بلند مینار ہیں کہ اچھا قوی اور مضبوط آدمی بھی ان پر چڑھتے چڑھتے تھک جاتا ہے۔آج بھی انجینئر جب ان میناروں کو دیکھتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ اُس زمانہ میں ناقص انجینئر نگ کے با وجو دانہوں نے کتنی بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر دیں۔உ در حقیقت یہ مینار نہیں بلکہ قبریں ہیں جو بادشاہوں کے لئے بنائی جاتی تھیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان میناروں کے ذریعہ سے آسمانی ارواح ان کے بزرگوں کے نزدیک ہو جاتی ہیں۔حضرت مسیح کے مینار پر اترنے کا غرض مصری لوگ یہ مینار آسانی روحوں کے ساتھ ملنے کے لئے بنایا کرتے تھے ،مسلمانوں عقیدہ مسلمانوں میں کس طرح آیا میں حضرت مسیح کے مینار پر سے اترنے کا عقیدہ بھی اسی بناء پر پیدا ہوا ہے۔احادیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح عِندَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ نازل ہوگا۔یعنی وہ سفید مینار کے قریب اُترے گا۔